حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کیلئے جاری مذاکرات میں پاکستان کے 25 اداروں کی جلد سے جلد نجکاری کی یقین دہانی کروادی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری پر تیزی سے کام آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت 25 ادارے نجکاری کی فعال فہرست میں شامل ہیں، ہوا بازی شعبے کا ایک ہی ادارہ پی آئی اے جبکہ فنانشل اور ریئل اسٹیٹ سے متعلق 4، 4 ادارے نجکاری کے جاری پروگرام میں شامل ہیں۔
انڈسٹریل سیکٹر کے 2، توانائی کے شعبے (بجلی کمپنیوں سمیت) کے 14 ادارے، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، بلوکی، حویلی بہادر، گدو اور نندی پور پاورپلانٹ بھی جاری نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں۔
10 سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، فرسٹ ویمن بینک ، پاکستان انجینئرنگ کمپنی اور سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ بھی فعال نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کیا ہے کہ اداروں کی نجکاری ضرور ہوگی اور اس میں سرفہرست پی آئی اے سر فہرست ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے آخری جائزے کے لیے تمام اہم شرائط پوری کرچکا ہے، مذاکرات کی کامیابی آئی ایم ایف کے اطمینان سے مشروط ہے، مذاکرات کی کامیابی سے متعلق فیصلہ آئی ایم ایف نے کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








