واشنگٹن: امریکا نے طالبان حکومت کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی نہ کی جائے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ میں کہا، ’’ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے جو امریکا یا ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘‘
دہشت گردانہ حملوں میں پاکستانی فوجیوں کی جانوں کے ضیاع اور سرحد کے دوسری طرف شہریوں کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو دور کریں۔
نائب ترجمان نے کہا کہ ہم نے رپورٹس دیکھی ہیں کہ پاکستان نے ہفتے کے روز ایک فوجی چوکی پر ہونے والے حملے کے جواب میں افغانستان میں فضائی حملے کیے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں حملے کے دوران ہونے والی جانی نقصان اور ناانصافیوں اور افغانستان میں حملے کے دوران شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرا افسوس ہے۔
ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے نہ ہوں اور ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل سے کام لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ہم دونوں فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی اختلافات کو دور کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کے بارے میں تفصیلی بات چیت کے لیے باقاعدہ رابطے میں ہے، جس میں ہماری انسداد دہشت گردی کی بات چیت اور دیگر دو طرفہ مشاورت بھی شامل ہے۔
پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے نائب ترجمان نے بتایا کہ امریکی سفیر نے 15 مارچ کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی پر حکومت پاکستان کے ساتھ شراکت داری سمیت دو طرفہ امور پر بات چیت کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








