سوشل میڈیا صارفین نے شاہد آفریدی کو نشانے پر رکھ لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے تحت خیبر پختونخواہ اور سندھ میں راشن بیگز کی تقسیم جاری
(فوٹو: آن لائن)

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم شاہد آفریدی کا حالیہ بیان سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جس پر عوام نے کڑی تنقید کرتے ہوئے بوم بوم آفریدی کے کرکٹ پر احسانات بھی نظر انداز کر ڈالے۔

سوشل میڈیا صارفین خصوصاً تحریکِ انصاف کے چاہنے والوں کو شاہد آفریدی کے اس بیان پر اعتراض ہے جس میں انہوں نے ملک کے وزیر اعظم (جو کسی دور میں عمران خان ہوا کرتے تھے) پر اداروں کے این آر او کو ترجیح دے ڈالی ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ سیاست مکمل طور پر الگ بال گیم ہے۔ سیاست میں کوئی میں نہیں ہوتا۔ یہ ملک سب کا ہے۔ اپوزیشن میں بھی اچھے لوگ ہیں اور حکومت میں بھی اچھے اور برے لوگ پائے جاتے ہیں۔

بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے، ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کسی ایک کا نہیں ہے۔ ملکی اداروں کو فیصلے کرنے دیں۔ ادارے کے ہاتھ میں این آر او ہونی چاہئے۔ وزیراعظم کے ہاتھ میں این آر او نہیں ہوتی۔

سوشل میڈیا صارف سعدیہ کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی اپنے آپ کو پریشان کر رہے ہیں۔ کسی کو بھی یہ حق کیسے مل جاتا ہے کہ وہ این آر او دے دے یا سیاسی و عدالتی معاملات میں مداخلت کرے؟ بوم بوم آفریدی پر دیگر افراد نے بھی تنقید کی۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی عمران خان سے بڑی برانڈ ہیں کیونکہ انہوں نے سب کچھ پاکستان کیلئے کیا۔ وہ اپنی بیٹی سے بھی محبت کرتے ہیں۔ ہم شاہد آفریدی کی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ سوشل میڈیا صارفین نے شاہد آفریدی کی جانب سے ملک کے وزیراعظم سے زیادہ اداروں کو اہمیت دینے پر انہیں بھی پی ٹی آئی کے خلاف پکڑ دھکڑ میں صفِ اوّل پر موجود پولیس کا اہلکار قرار دیتے ہوئے بوم بوم آفریدی کی میمز بنانا شروع کردیں۔

https://twitter.com/raoo512/status/1771200458595484038

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہد آفریدی کے مابین مشترکہ تعلق کرکٹ کا ہے، عمران خان نے ملک کو ورلڈ کپ جتوایا تو شاہد آفریدی نے ایک سے ایک کرکٹ ریکارڈز اپنے نام کرکے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ دونوں شخصیات کو دنیائے کرکٹ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

شاہد آفریدی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جس ویڈیو بیان کو سامنے رکھتے ہوئے بوم بوم آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ پرانی ہے اور موجودہ ملکی منظرنامے سے اس ویڈیو کا کوئی تعلق نہیں۔

Related Posts