اسرائیل میں ہنگامہ آرائی، مظاہرین کا نیتن یاہو سے مستعفی ہونیکا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: منٹ)

غزہ کے خلاف گزشتہ برس سے جاری حملوں کے حوالے سے حکومت مخالف ہنگامہ آرائی ہوئی جن میں اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے ہیں۔

بھارتی میڈیا (روزنامہ منصف) کا اسرائیلی اخبار ”ٹائمز آف اسرائیل“ کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حماس کی قید میں موجود اسرائیلی شہریوں کے لواحقین بھی پہلی بار نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوئے۔

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہوا جہاں مظاہرین نے اہم سڑکیں بلاک کرکے شدید ٹریفک جام کیا جس کے نتیجے میں مسافر پھنس کر رہ گئے۔ پولیس نے 12 کے لگ بھگ مظاہرین گرفتار کر لیے۔

اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پانی کی توپ استعمال کی۔ دریں اثناء مقبوضہ بیت المقدس میں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

مظاہرین نیتن یاہو سے بطور وزیراعظم مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔ حماس کے مغوی اسرائیلیوں کے لواحقین نے حماس کے ساتھ معاہدے میں نیتن یاہو حکومت کو رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کا کردار مجرمانہ اور ناقابلِ فہم ہے۔

Related Posts