ہر سال یکم اپریل کو اپریل فول کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ یہ دن مسلسل قہقہوں، لطیفوں اور غیر نقصان دہ اور بعض اوقات سنگین پرینکس پر مبنی ہوتا ہے۔
اگر ہم پرینک کی تعریف کا جائزہ لیں تو پرینک سے مراد کوئی ایسی صورتحال تخلیق کرنا ہے جس کے نتیجے میں کوئی ایک شخص یا زیادہ لوگ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں جس پر ہنسی آئے تاہم اس کا مقصد کسی شخص کو نقصان پہنچانا نہیں ہوسکتا۔آئیے، اپریل فول کی تاریخ سمیت دیگر پہلوؤں کاجائزہ لیتے ہیں۔
اپریل فول کی تاریخ
تاریخی اعتبار سے یہ یقین کی اجاتا ہے کہ جب پوپ گریگوری 13 نے گریگورین کیلنڈر (موجودہ عیسوی کیلنڈر) جاری کیا تو تصدیق کی کہ نئے سال کا آغاز یکم جنوری سے ہوگا۔
تاہم اسی کیلنڈر کے پرانے ورژن میں سال کا آغاز یکم اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس لیے جب کیلنڈرز کی تبدیلی کا موقع آیا تو کچھ لوگوں نے مارچ کے آخری ہفتے سے لے کر یکم اپریل تک نئے سال کی خوشیاں منانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
دوسری جانب ایسے لوگ جنہیں سال کے یکم جنوری سے شروع ہونے کا علم تھا، انہوں نے پرانے کیلنڈر کی پیروی کرنے والوں کا مذاق اڑانا شروع کردیا اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اپریل فول منانے کا آغاز ہوا تھا۔
ایک اور روایت
بہت سے تاریخ دان اپریل فول کے دن کو ہیلیریا جیسے تہواروں سے منسوب کرتے ہیں جس کا لاطینی زبان میں مطلب ”لطف سے بھرپور“ ہوتا ہے۔ قدیم روم میں اس روز لوگ قسم قسم کے لباس پہن کر ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے اور مختلف کھیل کھیلتے تھے۔
دن منانے کی وجہ؟
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپریل فول منانے کے طریقوں میں جدت آئی اور بہت سے لوگ بعض اوقات اپریل فول منانے کے چکر میں دوسروں کو پریشان کن حالات کا شکار کردیتے ہیں جس میں کسی کو کسی عزیز کے انتقال کی خبر دینا یا جھوٹی خبریں پھیلانا شامل ہے۔
حالانکہ اپریل فول منانے کا مقصد اپنی زندگی کو زیادہ سنجیدہ نہ لیتے ہوئے زندگی کے خوبصورت لمحات کا لطف اٹھانا بھی ہوسکتا ہے۔ اپریل فول منانے والے زندگی کی یکسانیت سے بھرپور روٹین سے ہٹ کر کچھ نیا کرتے ہیں جو انہیں خوش رکھ سکتا ہے، اس لیے نیک نیتی سے اپریل فول منانے میں کوئی حرج نہیں۔
مسلمان مخالف دن
نجی ٹی وی (ایکسپریس نیوز) کے کالم نگار سرور راجپوت کا کہنا ہے کہ اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد مسلمانوںن پر بے انتہا ظلم و ستم ہوئے، قتلِ عام کیاگیا اور معاہدے توڑ دئیے گئے، مسلمانوں کو زبردستی اسلام چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ انکار پر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
سرور راجپوت کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ لیم سمیت مختلف تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ جب ابوعبداللہ نے تمام مسلمانوں سے غداری کی تو فرنینڈو کو اسپین پر قابض ہونے میں بہت آسانی ہوئی اور پھر وہی شخص ابوعبداللہ اسپین سے بے دخل کردیا گیا اور پھر مسلمانوں سے بدترین سلوک شروع ہوا۔
مسلمانوں کو مذہب کی تبدیلی پر مجبور کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہوجائیں یا نہ ہونے کے عوض 50 ہزار سونے کے سکے دئیے جائیں، ایسا نہ کرنے پر پھانسی دے دی جاتی اور انتہائی اذیت ناک سزائیں دی جاتیں۔ مدارس میں بچوں کو بپتسمہ دیا جانے لگا۔
بعد ازاں عیسائی حکمرانوں نے بچے کھچے مسلمانوں سے کہا کہ آپ کو افریقہ بھیج دیتے ہیں، اسپین چھوڑ دیں۔ مسلمان اس جھانسے میں آگئے اور اپنا تمام مال و اسباب اور علمی ذخیرہ جمع کرکے حکمرانوں کے فراہم کردہ بحری جہازوں میں سوار ہوگئے، لیکن انہیں غرقاب کردیا گیا۔
اسپین کی حکومت کے جرنیلوں اور سرکاری حکام نے مسلمانوں کو الوداع کہہ کر رخصت کیا اور سمندر کے درمیان پہنچ کر منصوبہ بندی کے تحت وہ جہاز غرق کردئیے گئے جن پر سینکڑوں مسلمان سوار تھے۔ ان کے ساتھ ہی وہ علمی ذخیرہ بھی سمندر برد ہوگیا۔
یکم اپریل کو پیش آنے والے اس واقعے کا تعلق گیارہویں صدی عیسوی کے اوائل سے ہے۔ پھر اسپین بھر میں جشن منایا گیا اور اسے اپریل فول کا نام بھی دے دیا گیا یعنی یکم اپریل کے بے وقوف۔ یوں یہ دن پورے یورپ میں پھیلا اور باقاعدہ پوری دنیا میں منایا جانے لگا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دن مسلمانوں کو دھوکے سے شہید کرنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ سرور راجپوت کا کہنا ہے کہ اللہ نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے، اس لیے اپریل فول منانے والے جو جھوٹ بول کر دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں، اللہ کی لعنت کے مستحق بنتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








