بزرگ موذن سحری ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو دنیا

مصری شہر دمنہور میں واقع تاریخی الحبشی مسجد کے مشہور و معروف موذن چچا طہ صنیدق نے قابل رشک حالت میں جان دے دی۔

طہ صنیدق آثار قدیمہ کی تاریخی الحبشی مسجد کے گزشتہ پچاس سال سے مؤذن تھے، گزشتہ دن وہ فجر کی اذان کے لیے کھڑے ہوئے اور فوت ہو گئے۔ انہوں نے سحری کا وقت ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’’ پانی چھوڑ دو اور روزے کی نیت کرلو‘‘ اور اس کے ساتھ ہی خاموشی چھا گئی۔ طحہ صنیدق بے ہوش ہوگئے۔ نمازیوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔

چچا طہ صنیدق کے اہل خانہ اور شناسا افراد نے فجر کی اذان کے دوران مسجد میں ان کی موت کو ایک اچھے انجام کی علامت قرار دیا۔ ان کی موت کا اعلان کیا گیا تو دمنہور شہر کی فضا سوگوار ہوگئی۔

العربیہ کے مطابق الحبشی مسجد کے امام شیخ رمضان عبدالحفیظ نے چچا طہ کی موت پر اظہار افسوس کیا اور بتایا کہ چچا طہ صندیق 50 سال سے تاریخی الحبشی مسجد کے موذن تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سحری کا وقت ختم ہوگیا اور جان دے دی۔

اس سے قبل ان کے بڑے بھائی چچا اسماعیل بھی اسی مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے مسجد کی صفائی کرتے اور نماز کی تیاری کے کام کرنے کے دوران چل بسے تھے۔ الحبشی مسجد کے امام نے مزید کہا کہ چچا طہ صندیق کی نماز جنازہ دوپہر کو الحبشی مسجد میں ہی ادا کردی گئی۔

Related Posts