بھارت سے 3000 سکھ یاتری سالانہ تین روزہ بیساکھی میلے کی تقریبات میں شرکت کے لیے واہگہ بارڈر عبور کر کے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ اور سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے پاکستان آنے والے یاتریوں کا خیرمقدم کیا گیا، یاتری کل حسن ابدال میں ہونے والی مرکزی تقریب میں شامل ہونگے۔
اپنے دورے کے دوران یاتری سکھوں کے مذہبی مقامات جیسے ننکانہ صاحب اور کرتار پور میں دربار صاحب پر بھی حاضری دینگے۔ 21 اپریل کو لاہور کے گردوارہ ڈیرہ صاحب میں اکٹھے ہوں گے اور 22 اپریل کو واہگہ کے راستے بھارت واپس جائیں گے۔
واضح رہے کہ ننکانہ صاحب میں بیساکھی میلہ کی تقریبات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں جو کہ 15 اپریل سے شروع ہو کر 17 اپریل تک جاری رہے گی۔ بھارت، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔ ۔
ننکانہ صاحب میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
ننکانہ صاحب کی ضلعی انتظامیہ نے زائرین کے لیے آمدورفت، رہائش، سیکورٹی، طبی سہولیات اور لنگر کے انتظامات سمیت جامع انتظامات کو یقینی بنایا ہے۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے پاکستان کی جانب سے گرمجوشی سے فراہم کی جانے والی مہمان نوازی پر اظہار تشکر کیا اور یاتریوں کے سفر میں سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ اسلام آباد نے بیساکھی کے تہوار کے لیے تقریباً 3000 بھارتی سکھوں کو ویزے جاری کیے ہیں۔
سکھ یاتریوں کو ٹرین کے ذریعے حسن ابدال میں گوردوارہ پنجہ صاحب پہنچایا جائے گا، سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز جلد ہی کرتار پور میں گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ کرنے والی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








