نئی دہلی: بھارت میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعہ کو ووٹنگ کا آغاز ہوگیا، کروڑوں ہندوستانی شہری چھ ہفتے کے طویل انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔
ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر جزائر انڈمان تک پھیلی ہوئی پہلی 21 ریاستوں میں تقریباً 970 ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں، ووٹر یکم جون تک ہونے والے انتخابات کے دوران پانچ سالہ مدت کے لیے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے لیے 543 اراکین کا انتخاب کریں گے۔
ان انتخابات کو ہندوستان کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جاتا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی یہ الیکشن جیتگئے تو وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلسل تیسری بار اقتدار پر فائز ہونے والے صرف دوسرے ہندوستانی رہنما بن جائیں گے۔
انتخابات کی اکثریت مودی اور ان کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے سازگار نتائج کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا سامنا انڈین نیشنل کانگریس اور بااثر علاقائی جماعتوں کے زیرقیادت ایک وسیع اپوزیشن اتحاد کے خلاف ہے۔ تاہم یہ غیر یقینی ہے کہ اگر اپوزیشن اتحادجیت جاتا ہے تو قیادت کون سنبھالے گا کیونکہ 20 سے زیادہ جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے ابھی تک کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا ہے۔
اگرچہ بی جے پی کو اس وقت ہندوستان کے ہندی بولنے والے شمالی اور وسطی علاقوں میں نمایاں حمایت حاصل ہے لیکن پارٹی کو جنوبی ریاست تامل ناڈو میں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، جس کی 39 پارلیمانی نشستیں ہیں اور جمعے کو ووٹنگ کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








