کراچی: شکار پور پولیس کے 3 اہلکاروں اور 4 بین الصوبائی اسمگلرز کو کچے کے ڈاکوؤں کو جدیداسلحہ اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی (اے آر وائی) کی رپورٹ کے مطابق جیکب آباد پولیس نے بلوچستان سے سندھ میں اسلحہ اسمگل کرنے کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے شکارپور کے 3پولیس افسران اور 4 اسمگلرز کو گرفتار کیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس موبائل سے کچے کے ڈاکوؤں کو جدید اسلحہ اسمگل کیا جارہا تھا۔ پولیس موبائل سے برآمد اسلحے میں جی تھری اور ایس ایم جی کے علاوہ تقریباً 2500 راؤنڈز بھی شامل ہیں۔
مذکورہ رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ جدید اسلحہ کچے کے ڈاکوؤں کو پہنچانے میں ملوث پولیس وین سکیورٹی کیلئے صوبائی مشیر کو دی گئی تھی۔ آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈبل کیبن پولیس موبائل مشیر سندھ کابینہ بابل بھیو کے زیرِ استعمال ہے۔ جیکب آباد پولیس نے ڈبل کیبن اور پولیس موبائل سے اسلحہ برآمد کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل اور ڈبل کیبن سے لائٹ مشین گن اور کلاشنکوف کی 2 ہزار 350 گولیاں برآمد ہوئیں۔ لائٹ مشین گن کے 6 میگزین، جی 3رائفل کے 17 میگزین بھی برآمدہ اسلحے میں شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکاروں میں اے ایس آئی امتیاز بھیو، ثناء اللہ اور بقاء اللہ انڑ شامل ہیں۔ اس دوران 4 مقدمات میں مطلوب بدنامِ زمانہ اسمگلر اختیار لاشاری بھی گرفتار ہوا جبکہ گرفتار اہلکار شکارپور پولیس کیلئے کام کر رہے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








