سابق میئر کراچی اور موجودہ رکنِ قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال نے وفاقی حکومت سے سود کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ہے، جسے عوام کو لالی پاپ دینے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان 1947ء میں قیام میں آیا اور یہ نوزائدہ مملکت اپنے قیام کے بعد سے ہی مالی مصائب کا شکار تھی، اس لیے 1950ء میں ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلانے والے ملک نے دنیا کے سب سے بڑے سودی بینک آئی ایم ایف کی رکنیت حاصل کر لی۔
کسی بھی ملک کے قیام کے وقت اٹھائے گئے اقدامات سے اس کی سمت طے ہوجاتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آنے والی پالیسیاں اس کی مزید تشریح کرتی رہتی ہیں، پاکستان کو اپنے قرض پر لگنے والے سود کی ادائیگی کیلئے بھی مزید سودی قرض لینا پڑتا ہے۔
ایسے میں قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما اور سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران کہا کہ ملکی معیشت سے جلد از جلد سود کا خاتمہ کیا جائے، 73ء کا آئین سود کے خلاف ہے۔
رکن اسمبلی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 73ء کے آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جتنی جلد ہوسکے، سود سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آج اس آئین میں لکھی بات کو بھی 51 سال گزر گئے لیکن ہم من حیث القوم اس پر عمل نہیں کرسکے۔
عوام کو لالی پاپ دینے کی کوشش؟
لالی پاپ دینے سے مراد عوام کو ایسے نعروں یا مطالبات کے پیچھے لگانا ہے جو کبھی پورے نہیں ہوسکتے، جبکہ گزشتہ 70سال سے زائد عرصے سے سود پر چلنے والی معیشت اب شاید سود سے کبھی جان چھڑا بھی نہ سکے، تاہم سود سے جان چھڑانا ہر مسلمان کا دیرینہ مطالبہ ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ ہماری معیشت کا دارومدار سود پر ہے۔ایسے میں بطور رکنِ قومی اسمبلی اگر مصطفیٰ کمال نے یہ کہا کہ سود کا خاتمہ ہونا چاہئے تو وہ ایک عوامی لیڈر کی اپنے عوام کے دلی جذبات سے یکجہتی کا اظہار ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








