سوات میں 67 سالہ شخص نے چھٹی جماعت کی کم عمر طالبہ سے نکاح کرلیا۔
واقعہ سوات کے علاقے بریکوٹ میں پیش آیا جہاں 14 سالہ بچی کا نکاح اس کے والدین نے 67 سالہ شخص سے کروا دیا۔
موقر معاصر اردو نیوز کے مطابق بچی سے نکاح کرنے والے دلہے کے پہلی بیوی سے 8 بچے ہیں۔ بچی کے والد نے اپنی بیٹی کے نکاح کے معاملے کو خفیہ رکھا مگر جب بات پھیلی تو اسے رضامندی کا رشتہ قرار دیا گیا۔
مبینہ نکاح نامے کے مطابق بچی کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 2010 درج ہے جبکہ دلہے کا سنہ پیدائش 1957 ہے۔ نکاح کے کاغذات میں لڑکی کے والد اور گواہان کے نام بھی درج ہیں۔
تھانہ غالیگے کے ایس ایچ او روشن خان کے مطابق نکاح کا معاملہ پولیس کو پتا چلا تو بوڑھے شخص سمیت نکاح خواں کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم بچی کو میڈیکل رپورٹ کے لیے ہسپتال لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد ایف آئی آر ہوگی۔
دوسری جانب کم عمر دلہن نے ویڈیو بیان میں مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ بچی کا کہنا تھا کہ میں صبح اسکول گئی، واپس آئی تو پتا چلا کہ میرا نکاح ہے۔ جب گاؤں کے لوگوں نے مجھے مبارکباد دی تو میں بہت روئی۔
چھٹی جماعت کی طالبہ نے کہا کہ اس نے والدین کو بتا دیا تھا کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے، یہ نکاح میری مرضی کے بغیر ہوا ہے میں شادی کرنا نہیں چاہتی۔
واضح رہے کہ بچی کے والدین پر دولہے سے مبینہ طور پر دس لاکھ روپے لینے کا بھی الزام ہے جس کی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








