شوبز کی چکا چوند دنیا چھوڑ کر دینی زندگی گزارنے والی سابق گلو کارہ رابی پیر زادہ نے شوبز چھوڑنے کے بعد اپنے پہلے عمرے کے ناقابل یقین تجربات پر بات کی ہے۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک پروگرام میں اپنی داستان بیان کرتے ہوئے رابی پیر زادہ نے کہا کہ گلو کاری چھوڑنے کے بعد ایک دن انہیں خاندان میں سے کسی نے عمرے پر بھیجنے کی آفر کی۔
ان کا کہنا ہے کہ عمرے کی آفر ہوئی تو میں نے منع کردیا کہ مجھے فی الحال نہیں جانا، مگر آفر کرنے والے میرے اور میری والدہ کے ٹکٹ کنفرم کرکے بھیج دیے کہ آپ عمرہ کرکے آئیں۔
رابی پیر زادہ کہتی ہیں کہ میں امی کے ہمراہ جہاز پر سوار ہوئی تو پہلی بار اکانومی کا سفر کر رہی تھی، میں نے امی سے کہا کہ جب میں شوبز میں تھی تو فرسٹ کلاس میں سفر کرتی تھی، یہ کیا بات ہوئی کہ اب اللہ کی راہ اختیار کرلی ہے مگر اس کے باوجود اکانومی پر سفر کر رہی ہوں۔
رابی کہتی ہیں کہ یہ شکوہ کرنے کے بعد ابھی میں اداس ہوکر بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک جہاز کا کپتان آیا اور اس نے آتے ہی مجھ سے پوچھا کہ آپ رابی ہیں؟ میں نے اقرار کیا تو پوچھا آپ کے ساتھ اور کون ہے، والدہ کا بتایا تو اس نے ہمیں اٹھا کر اپنے کیبن کے ساتھ والی سیٹ پر بٹھادیا۔
رابی کہتی ہیں اس کے بعد ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں ہوٹل بھی کچھ خاص نہیں لے سکے، ایسا ہوٹل لے لیا جس میں کھانا نہیں تھا۔ میں پھر یہ سوچ کر اداس ہوگئی کہ شوبز میں تھی تو بڑا ہائی فائی ماحول ہوتا تھا، مگر اب یا اللہ یہ حالت ہے۔
رابی کہتی ہیں کہ اللہ سے یہ شکوہ کرنے کے بعد میں والدہ کو لیکر کھانا کھانے باہر نکلنے ہی لگی تھی کہ ایک مصری شخص آیا اور اس نے بھی پوچھا کہ آپ رابی پیر زادہ ہیں؟ میں کہا ہاں تو اس نے فورا کہا کہ آپ کا سارا انتظام میرے ہوٹل میں ہوچکا ہے، آپ جتنے دن یہاں رہیں گی، آپ کا کھانا پینا، لانڈری سمیت سب کچھ فری ہوگا۔
رابی پیر زادہ کہتی ہیں کہ اس عمرے کے دوران میں نے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی ذات کو محسوس کیا اور مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ کی ذات ہے اور اپنے بندوں کی سنتی بھی ہے۔
یہ واقعات بتاتے ہوئے رابی پیر زادہ بار بار جذباتی اور گلوگیر ہوتی رہیں اور اپنے زندگی کے تجربات بیان کرتی رہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








