کابل: افغانستان میں تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے 300 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، ملک کے شمالی علاقوں میں تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی۔
افغانستان میں شدید بارشوں اورسیلاب نے تباہی مچا دی، افغان صوبہ بغلان میں اموات کی تعداد 300 ہوگئی ہے، اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں افغانستان کے شمالی علاقوں میں 1000 مکانات تباہ ہوئے۔
عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ شمالی صوبہ بغلان میں 300 افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں لاپتہ ہوگئے، سیلاب اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی جاری ہے۔ افغان ڈیزاسٹر رسپانس کا کہنا ہے کہ بغلان کے 3 اضلاع میں سیلابی صورتحال درپیش ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں افغان عوام کی امداد کیلئے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں جبکہ پاکستان نے افغانستان میں سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزمائش کی اِس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی فوج کی جانب سے مسلط کی گئی کم و بیش 20 سالہ جنگ کے بعد طالبان حکومت خشک سالی کا خاتمہ کرنے اور زرعی انقلاب کیلئے قوش تیپہ کینال کے منصوبے سے دنیا کو حیران کرنے لگی جبکہ افغانستان میں کوئی ساحل نہیں۔
سنہ 2021 میں بر سر اقتدار آنے کے بعد طالبان نے فوری طور پر افغانستان کی خشک سالی کو ختم کرنے اور ملک میں زراعت کا انقلاب برپا کرنے کیلئے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا جس پر عملدرآمد کی ہمت آج تک کوئی نہیں کرسکا تھا۔
قوش تیپہ کینال مجموعی طور پر ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر کے علاقے کو سیراب کرے گا، اس منصوبے کے اخراجات کا تخمینہ 680 ملین ڈالر لگایا گیا، افغانستان کی طالبان حکومت نے یہ بھاری اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرنے کا فیصلہ کیا ہے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








