آزاد کشمیر میں عوام اور ریاست آمنے سامنے، مسئلہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عرب نیوز

آزاد کشمیر میں عوام اور پولیس کے درمیان کئی دن سے کشیدگی پائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں نظام زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے، آئیے جانتے ہیں اس عوامی ایجی ٹیشن کی وجہ کیا ہے؟

آزاد کشمیر میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو اتوار کو تین دن ہوگئے جبکہ لانگ مارچ کے شرکا پونچھ ڈویژن کے شہر راولاکوٹ میں جمع ہو رہے ہیں۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر سنیچر کو میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان وفقوں وقفوں سے جھڑپیں بھی جاری رہیں۔ میرپور کے علاقے اسلام گڑھ میں ایک پولیس انسپکٹر کی ہلاکت بھی ہوئی۔

آج اتوار کو دارالحکومت مظفرآباد میں مختلف مقامات پر پولیس تو تعینات ہے تاہم آج کہیں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں رپورٹ نہیں ہوئیں۔

اتوار کی شب وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ ہم مظاہرین کے آٹے اور بجلی سے متعلق مطالبات منظور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چارٹر آف ڈیمانڈز سے ہٹ کر بھی اگر کوئی مطالبات ہیں تو وہ حل کرنے کے لیے فراخدلی سے بات چیت کی دعوت دیتے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے الگ الگ اجلاس بلا لیے ہیں۔ اجلاسوں میں کشمیر کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ مظاہرے در اصل ریاست میں بجلی اور آٹے کی ہوشربا گرانی کے خلاف ہو رہے ہیں، جسے بھارتی میڈیا کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان عوامی مظاہروں کے دوران گزشتہ دن اس وقت افسوسناک واقعہ پیش آیا جب گرفتاری سے بچنے ایک نوجوان نے دریائے نیلم میں چھلانگ لگائی۔ اسی طرح دوسرا افسوسناک واقعہ مظاہرین کے ہاتھوں ایک پولیس افسر کی حادثاتی موت کی صورت میں سامنے آیا۔

وفاق پاکستان کی سطح پر اب آزاد کشمیر کی اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیے جانے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ریاست میں جاری عوامی بے چینی کا جلد خاتمہ ہوجائے گا اور حالات نارمل ہوجائیں گے۔

Related Posts