اسلام آباد: حکومت نے پری پیڈ فون اور انٹرنیٹ کارڈز کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک یونٹس خریدنے والے نان فائلرز کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر 75 فیصد کر دیا ہے۔
اس اہم ایڈجسٹمنٹ کا مقصد انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو ہدف بنا کر ریونیو کی بنیاد کو وسیع کرنا ہے۔
بجٹ 2024-25 کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے انکم ٹیکس ودہولڈنگ کی شرحوں میں تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے۔
خاص طور پر سیکشن 114B کے تحت انکم ٹیکس جنرل آرڈر میں مذکور افراد کے لیے (موبائل سروسز استعمال کرنے والے نان فائلرز)، مجوزہ ٹیکس کی شرح بل یا پری پیڈ انٹرنیٹ یا فون کارڈز، یا کسی بھی الیکٹرانک میڈیم یونٹس کی فروخت کی قیمت کا 75فیصد کردیا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کے 11252 سم کارڈز کو بلاک کیا تھا۔اس عمل کو ہموار کرنے کے لیے قانون کے مطابق ٹیکس حکام اور ٹیلی کام آپریٹرز کا ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے۔
ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اور پاکستانی ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندوں کے درمیان 12 مئی 2024 کو ہونے والی میٹنگ کے بعد ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ انکم ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 1 آف 2024 کو نافذ کرے گا اور سموں کی بندش کو ہموار کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








