عمران خان نے کہا ہے کہ ن لیگ سے ہم کیا مذاکرات کریں اور کیا موسم کی بات کریں، اگر مذاکرات کیے تو ان کی حکومت چلی جائے گی۔
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہوں، اپنی ذات یا حکومت کے لیے نہیں، پہلے بھی کہا تھا اگر میرے پیچھے ہٹنے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ مذاکرات ایسے نہیں ہوتے، محمود خان اچکزئی اگر کوئی پیشکش لے کر آئیں گے تو پھر مذاکرات کرنے کا سوچیں گے، ہم نے محمود خان اچکزئی کو سیاسی اتحاد کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی ہے، ن لیگ سے ہم کیا مذاکرات کریں اور کیا موسم کی بات کریں، اگر مذاکرات کیے تو ان کی حکومت چلی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کرائسز میں ہے، حکومت نے اپنے خرچے کم نہیں کیے جو تکلیف دہ بات ہے، موجودہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول نہیں بناسکی، ملک کو سرجری اور مینڈیٹ والی حکومت کی ضرورت ہے جو ریفارمز کرکے ملک کو بچا سکے کیوں کہ پاکستان اس وقت زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں خزانہ خالی ہے دوسری طرف مریم نواز اپنی تشہیر پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے، اڈیالہ جیل میں بیٹھے میجر اور کرنل کے خلاف بدھ سے کیس دائر کریں گے جس کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ احسن اقبال نے مجھے 5 سال جیل میں رکھنے کا کہہ کر عدلیہ کی توہین کی ہے، سینئر وفاقی وزیر کے اس بیان کے بعد یہ ظاہر ہے ملک میں قانون کی حکمرانی موجود ہی نہیں، احسن اقبال ایسے بیانات کس منہ سے دے رہے ہیں؟ اڈیالہ جیل میں دو اچھے افسران تھے جنہیں یہاں سے تبدیل کردیا گیا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال کو اڈیالہ جیل سے تبدیل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمارے بریگیڈئیر کو قتل کردیا اور آئی ایس آئی یہاں لگی ہے کہ کون جیل آسکتا اور کون نہیں آسکتا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








