کیا توہین قرآن کے الزام میں مارا جانے والا شخص بے گناہ تھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عرب نیوز

سوات کے علاقے مدین میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں توہین قرآن کے الزام میں مارے جانے والے سیاح کے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مدین کے ایک ہوٹل میں دو دن سے ٹھہرے ہوئے سیاح کو کچھ لوگوں کی شکایت پر توہین قرآن کے الزام میں پولیس نے حراست میں لیکر ہوٹل سے تھانے منتقل کر دیا۔

اس کے بعد مقامی لوگوں نے تھانے پر حملہ کرکے سیالکوٹ سے آئے ہوئے اس سیاح کو پولیس سے چھڑا کر سڑک پر زندہ جلا دیا تھا۔

اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس شخص پر توہین قرآن کا الزام ثابت نہیں ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر مختلف ایکٹوسٹس نے مقامی افراد، موقع پر موجود لوگوں، اس کیس سے واقفیت رکھنے والوں اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ واقعہ بہت پر اسرار حالات میں پیش آیا۔

بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کے کمرے سے ملحقہ ہوٹل کے دیگر کمروں سے کچھ لوگوں نے سب سے پہلے اس شخص پر توہین قرآن کا الزام لگایا، جس کے بعد پولیس نے آکر سلیمان نامی اس مقتول کو ہوٹل سے تھانے منتقل کر دیا۔

تھانے میں مقتول سے تفتیش کرنے والے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس شخص سے سب سے پہلے پوچھا گیا کہ وہ قادیانی تو نہیں ہے، جس پر اس نے جواب دیا کہ نہیں وہ الحمد للہ اہل سنت مسلمان ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق پھر اس سے توہین قرآن کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا اور بتایا کہ وہ مسلمان ہے، وہ کیسے قرآن کی توہین کر سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق اسی دوران مشتعل ہجوم نے تھانے پر دھاوا بول دیا، تو انہوں نے مقتول کو بچانے کیلئے دوسرے کمرے منتقل کر دیا، تاہم بہت جلد ہجوم وہاں بھی پہنچا اور اسے نکال کر لے گیا۔

سوشل میڈیا پر واقعے کے حقائق سامنے آنے کے بعد علمائے کرام اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اس واقعے کی شدید مذمت کر رہے ہیں اور سیاح کے قتل میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرکے سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Related Posts