اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذہبی شدت پسندی ہماری ثقافت کا حصہ بن گئی ہے جسے سیاستدان بھی استعمال کرچکے ہیں اور ماضی میں بھی جلسے جلوس ہوتے رہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے جامع اقدامات طے کیے گئے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی روک تھام کریں گے۔
گفتگو کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہمارے فوجی جوان شہید ہورہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران بھی تیمر گرہ میں دہشت گردوں سے مقابلہ جاری تھا، دہشت گردی کے اس سلسلے کو روکنا ہوگا۔
وزیر دفاع خٰواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی سے پاکستان کا جانی و مالی نقصان ہوا ہے، تمام اداروں کو تعاون کی ہدایت دی جائے گی جن میں قانون ساز اور عدلیہ بھی شامل ہے، قانون سازی بھی ہوگی اور عدلیہ سے سپورٹ فراہم کرنے کا بھی کہا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرگرمِ عمل ہے، صوبائی حکومتوں کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو استحکام دیں، پولیس بھی اپنا پورا کردار ادا کرے، مذہبی شدت پسندی کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








