دنیا غربت، بھوک اور افلاس ختم کرنے میں ناکام ہوگئی، اقوامِ متحدہ

تازہ ترین

تازہ ترین

بوسنیا میں 25 سال قبل اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی کاوشیں ناکام رہیں۔انتونیو گوتریس
(فوٹو: آن لائن)

نیو یارک: اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا غربت، بھوک اور افلاس ختم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ جنگ اور پیسوں کی کمی کے باعث اہم ترقیاتی اہداف پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نیو یارک میں بریفنگ کے دوران کہا کہ قیامِ امن، موسمیاتی تبدیلیوں اور مالی امداد کو فروغ دینے میں عالمی ناکامی ترقیاتی عمل کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ رکن ممالک نے 2015 میں پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

بریفنگ کے دوران سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے کہا کہ رکن ممالک کیلئے ضروری تھا کہ وہ 2030 تک دنیا بدل دینے کے 17 اہداف کی تکمیل کرتے جن میں انتہائی غربت، بھوک اور افلاس کا مکمل خاتمہ شامل تھا، لیکن دنیا اہداف مکمل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ضروری ہے کہ پائیدار ترقی کیلئے اقدامات تیز کیے جائیں۔

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی برادری غربت، بھوک اور افلاس ختم کرنے کیلئے آگے آئے، ہم ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں پیشرفت کا تخمینہ 17فیصد ہے۔ رکن ممالک بہت سے شعبہ جات میں ترقی نہیں کرسکے۔ قابلِ تجدید ذرائع، انٹرنیٹ رسائی اور ایچ آئی وی انفیکشنز میں کمی خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہت سے لوگ آج بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں اور عالمی برادری کیلئے یہ عمل نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ ناقابلِ معافی بھی ہے۔ ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بڑی جنگوں اور تنازعات کو حل کیا جائے اور امن قائم کرنے کیلئے پائیدار اور ماحول دوست معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے۔

Related Posts