اژدھے انسان کو کیسے زندہ نگلتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو یوٹیوب

 

انڈونیشیا دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں سانپ اور اژدھے بکثرت پائے جاتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ یہ اژدھے آئے دن انسانوں پر حملہ آور ہوکر انہیں زندہ نگل لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ انسانوں کو نگلنے والے اژدھے کیسے ہوتے ہیں، کیا کسی خاص قسم کے اژدھے ہی یہ واردات کرتے ہیں یا ہر اژدھا یہ کام کرتا ہے؟ نیز ایک سوال یہ بھی ہے کہ اژدھا کس طرح ایک انسان پر حملہ کرکے اسے زندہ نگل لیتا ہے؟ برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں ان سوالوں کا جواب دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسانوں پر حملہ کرنے والے اژدھا مخصوص قسم اور جسامت کے حامل ہوتے ہیں، یہ دھاری دار جِلد والے ہوتے ہیں، یہ اژدھے تقریباً 10 میٹر سے زیادہ لمبے ہو سکتے ہیں اور انڈونیشیا میں لوگوں پر حملہ کر کے انھیں ہلاک کرنے والے بھی یہی طویل القامت دھاری دار اژدھے ہیں۔

اژدھے کیسے لوگوں کو نگلتے ہیں؟

10 میٹر یا 32 فٹ تک لمبے یہ سانپ انتہائی طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں اور پھر خود کو اپنے شکار کے گرد لپیٹتے ہیں اور اسے دبانا شروع کر دیتے ہیں۔

شکار کے ہاتھ پاؤں چلانے پر وہ اسے مزید مضبوطی سے دبوچتے ہیں۔ ایسے میں لمحوں کے اندر ہی شکار کا دم گھٹ جاتا ہے یا اس کا دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق جنگلی حیات کی ماہر میری روتھ لو اژدھوں پر تحقیق کرتی ہیں، جن کے مطابق بڑی جسامت کے اژدھے اپنا شکار پورا نگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شکار کو سالم نگلتے ہیں

اژدھے اپنا شکار سالم نگل لیتے ہیں۔ ان کے جبڑے بہت لچکدار ہوتے ہیں جس کے باعث وہ بڑا منہ کھول کر اپنے شکار کے گرد گھیرا تنگ کر کے اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں۔

جب انسانوں کو کھانے کی بات آتی ہے تو اس میں رکاوٹ کا سبب کندھوں کی ہڈی (شولڈر بلیڈز) بنتی ہے کیونکہ وہ آسانی سے ٹوٹتی نہیں۔

عام طور پر اژدھے چوہے اور دوسرے چھوٹے جانور کھاتے ہیں لیکن ایک بار جب وہ ایک خاص سائز تک پہنچ جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی چوہوں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ انھیں مطلوبہ کیلوریز نہیں مل پاتیں۔

میری روتھ لو کے مطابق مختصر یہ کہ وہ جتنے بڑے ہوتے جاتے ہیں اتنا ہی بڑا شکار ان کی ترجیح ہوتی ہے اور اس میں سور یا گائے جیسے جانور بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

 

Related Posts