وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے بنوں جرگہ کے تمام 11 مطالبات سے اتفاق کیا ہے تاہم حتمی منظوری اپیکس کمیٹی کی توثیق سے مشروط کر دی گئی ہے۔
موقر معاصر ایکسپریس کے مطابق خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو متوقع ہے جس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کریں گے۔ یہ مطالبات کیا ہیں، اس کی فہرست بھی سامنے آگئی ہے۔
مطالبات کیا ہیں؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنوں جرگہ کے مطالبات میں بنوں میں عزم استحکام پاکستان آپریشن کی مخالفت اور بنوں میں گڈ اور بیڈ طالبان کے مراکز کا مستقل طور پر خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دیگر مطالبات میں کہا گیا ہے کہ سرچ آپریشن کے نام پر مدارس، گھروں اور افراد کی بےعزتی نہ کی جائے، جمعہ خان روڈ عوام کی سہولت کے لیے بند نہ کیا جائے، علاقہ میں طالبان کی پٹرولنگ کا نوٹس لیاجائے اور مقامی انتظامیہ کو کارروائی کا مکمل اختیار دیا جائے، مقامی پولیس کی استعداد میں اضافہ اور پولیس کے وسائل اور ضروریات کو پورا کیا جائے, پولیس کو باتفریق ایکشن کا مکمل اختیار دیا جائے، سی ٹی ڈی پولیس کو مکمل فعال اور دہشت گردوں و جرائم پیشہ عناصرکے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار دیا جائے۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ مدارس، گھروں پر بلاجواز چھاپے نہ لگائے جائیں تاکہ عوام میں اشتعال انگیزی اور بے چینی نہ پھیلے، بیڈ طالبان کے خلاف سی ٹی ڈی کو مقامی سطح پر کارروائی کا مکمل اختیار دیا جائے جو بلا روک ٹوک اور دباﺅ کے ہو، دہشت گردی میں زخمی پولیس اہلکاروں کا علاج سی ایم ایچ میں کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بنوں جرگہ کے مطالبات سے اصولی طور پر اتفاق کرچکے ہیں تاہم حتمی منظوری ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دی جائے گی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جمعہ کے روز بنوں کا دورہ کرتے ہوئے مطالبات منظوری کا حتمی اعلان کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








