تازہ ترین

تازہ ترین

اگرچہ یہ بات سمجھنے میں بعض بڑوں کو  بھی ٹھوکر لگتی ہے لیکن بالخصوص نوجوان یہ بات بالکل نہیں جانتے کہ قوموں اور ممالک کی عمر انسانی عمر جتنی نہیں ہوتی۔ چنانچہ آپ نے مفکرین یا دانشوروں سے اس طرح کا جملہ ضرور سنا ہوگا
“قوموں کی زندگی میں پچاس سال ہیں ہی کیا ؟ کچھ بھی نہیں”
یہی وجہ ہے کہ ہم اگر سوویت یونین سے متعلق بات کریں گے تو یہی کہیں گے
“سوویت یونین بچپن میں فوت ہوگیا تھا”
اس کے برخلاف اگر آپ روس کی عمر دیکھیں تو وہ ایک ہزار سال سے زائد ہے۔چنانچہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ “سب” آگے نکل گئے پاکستان پیچھے رہ گیا، ستر سال ہوگئے ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں تو یہ بھی ایک جہل ہوتا ہے۔ اور اس معاملے میں کبھی آپ امریکہ سے اپنا تقابل کرتے ہیں تو کبھی چین سے۔ امریکہ سے اپنا تقابل کرتے ہوئے آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کی عمر ڈھائی سو سال ہے اور پاکستان کی 70 سال۔ جبکہ چین سے تقابل کرتے ہوئے تو آپ جہالت کو بھی شرمندہ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ آپ یہی نہیں دیکھ پاتے کہ چین محض ملک نہیں بلکہ پانچ ہزار سال کی عمر والی تہذیب ہے۔  اس تہذیب نے اپنی تاریخ میں بہت اونچ نیچ دیکھ رکھی ہے۔ ذرا دوسری جنگ عظیم کے عین پیچھے جھانک کر دیکھئے یہی چین ایک صدی سے زائد عرصے تک 18 مغربی ممالک کے قبضے میں رہا۔ لیکن اپنی تہذیب سے چین کی وابستگی یہ ہے کہ چینی صدر انگریزی جاننے کے باوجود اپنی زبان بولتا ہے۔ اور زبان تہذیب کی اساس ہوتی ہے۔ آپ کا تو یہ حال ہے کہ ہماری وال پر کمنٹ کرتے ہوئے یا اپنی وال پر پاکستانی بھائیوں کے لئے ہی پوسٹ انگریزی زبان میں لکھتے ہیں۔ اور باور کراتے ہیں کہ یہ آپ کا کوئی بہت غیر معمولی کمال ہے۔  جب قومیں اپنی زبان اور اکلچر سرنڈر کرنے سے انکار کردیں تو غلامی کی صدی کے بعد ان کی نئی اٹھان ہوتی ہے۔
 جسے ہم نے تحریک آزادی سمجھ رکھا ہے، اس کا خلاصہ اس کے سوا ہے کیا کہ ہم نے برطانوی حکمرانوں سے کہا
“آقا جی ! ہم آپ کی زبان بھی سیکھ چکے، آپ کا کلچر بھی اختیار کرچکے۔ اب آپ کو یہاں بیٹھ کر ہم پر راج کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ گھر جایئے، ہم انشاءاللہ دور سے ہی آپ کو اپنے وفادار غلام نظر آئیں گے”
اور پلٹ کر جنک فوڈ کے فرنچائزر سے کہا
” سکیوزمی ! گیو می اَ چیز برگر اینڈ پیسی۔ اور ہاں دیکھو مائونیز زیادہ نہ ڈالنا۔ تم نے کل بھی میری جینز گندی کردی تھی”
اور یہ مسخرے اس کو “ترقی” بتاتے ہیں
مانیں گے آپ اب بھی نہیں، سو اب آپ فرمائیں گے کہ چلو بھارت سے تقابل کر لیتے ہیں۔ ہم تو دونوں ایک ہی تھے بس دو ٹکڑے ہوگئے۔ پھر ہم پیچھے کیسے رہ گئے ؟ سو حضور ! کبھی ہندو تہذیب لفظ سنا ہے ؟ ناں ! ناں ! آپ نے بالکل نہیں سنا کیونکہ ہمیں تو یہی باور کرایا گیا ہے کہ ہندوستان کی تاریخ اس دن سے شروع ہوتی ہے جب کیرالہ کے ساحل پر مسلم تاجروں کا پہلا قدم پڑا۔ اس سے پیچھے گویا یہ جنگل تھا جہاں صرف شیر، ہاتھی اور بندر رہتے تھے۔ ہندوستان میں مسلم دور ہندو تہذیب کے دور زوال میں شروع ہوا ہے۔ اور ٹیگور جیسا آدمی ان کے بدترین دور زوال میں ہی آیا ہے جو آئن سٹائن کے پاس پہنچا اور گویا  کہا
“میاں ! یہ کیا اول فول بولتے رہتے ہو، آؤ بات کریں اور تمہیں کچھ عقل کی بات سمجھائیں”
ان دونوں کے بیچ ہونے والی گفتگو محفوظ ہے۔ ذرا پڑھ دیکھئے لگ پتہ جائے گا  کہ ٹیگور کس بلا کا نام ہے۔ یہ ٹیگور ہے جو کہتا ہے
“بڑا شعور ژراف کی طرح ہے کہ سر بادلوں میں ہے اور نیچے دل بیمار”
یہی بات فیودور دوستوئیسکی یوں کہتا ہے
“بڑا شعور نری بیماری ہے۔ شعور بس اتنا ہونا چاہئے کہ زندگی کا سفر چلتا رہے”
اب آپ کو تو یہ دونوں ہی پاگل لگیں گے کیونکہ آپ کو تو یہ باور کرایا گیا ہے کہ شعور جتنا بڑا ہوگا خدا سے جان چھوٹنے میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔ سو آؤ خدا کو زیر کریں۔ اور یوں ایک بڑے شعور نے کہا
“خدا مرچکا۔ اس کی جگہ سپر مین نے حاصل کرلی ہے”
اپنی تاریخ میں مسلم تہذیب کے چار بڑے علمی مراکز رہے ہیں۔ حجاز، اندلس، بغداد اور سمرقند۔ اس لسٹ میں آپ کو ہندوستان کا کوئی شہر نظر آتا ہے ؟ نہیں ! کیونکہ یہاں دینی علوم کی نسبت سے یہ حال تھا کہ اٹھارویں صدی تک یہاں کے علماء اس بات پر اتفاق کرچکے تھے کہ قیاس فقہی کو حدیث پر فوقیت و ترجیح حاصل ہے۔ جبکہ مادی علوم کی صورتحال یہ تھی کہ مغلوں نے پورا علم ریاضی زوجہ کے مقبرے، شاہی مساجد اور قلعے بنانے پر صرف کر ڈالا  اور پبلک سے کہا
“تم میر اور غالب کے شعر سنا کرو”
چلئے بات سمیٹتے ہیں ! ایک نظر پاکستان پر ڈالئے، اگر ڈال چکے تو غور کیجئے ! اور غور یہ کیجئے کہ کیا یہ ملک آپ کو ایک ایسا غیر سنجیدہ بچہ نظر نہیں آتا جس کی شرارتوں سے بڑی عمر والے ممالک تنگ ہیں ؟ یہ ملک ابھی بچہ ہے بچہ ! ہم ستر سال کی عمر میں ستر برس کی عمر والے امریکہ سے بہت بہتر ہیں۔ یقین نہیں آتا تو امریکہ کی پہلی صدی کا مطالعہ کر لیجئے !

Related Posts