ڈھاکہ: سقوطِ ڈھاکہ 1971 کے بعد ایک بار پھر سقوطِ ڈھاکہ ہوا ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو مستعفی ہو کر ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا جبکہ طلبہ تحریک نے فوج کی مجوزہ حکومت کی بجائے اپنی تجویز کردہ حکومت کو پسند کیا ہے۔
اسی دوران بنگلہ دیش کے صدر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خالدہ ضیا سمیت تمام بے گناہ قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے۔یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت دوران حراست ناساز ہوگئی تھی، جس سے جیل میں پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا ملک کی مقبول ترین رہنما رہی ہیں، اس کا ثبوت اس بات سے دیا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش کی نامور سیاست دان خالدہ ضیا پہلے 1991 سے 1996 تک اور پھر 2001 سے 2006 تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں، خالدہ ضیا ملک کی پہلی اور عالم اسلام کی دوسری خاتون وزیراعظم کہلائیں۔
خالدہ ضیا سے قبل عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم پاکستان کی محترمہ بے نظیر بھٹو رہی ہیں تاہم خالدہ ضیا کا اس کے علاوہ بے نظیر بھٹو سے کوئی قابلِ ذکر تعلق نہیں بنتا کیونکہ دونوں رہنماؤں کا تعلق دو الگ الگ ممالک سے ہے اور پھر دونوں کے سیاسی نظریات، دوستوں اور دشمنوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اپنے شوہر ضیاء الرحمٰن کے دورِ صدارت میں خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی خاتونِ اوّل بھی رہ چکی ہیں جبکہ ان کو 1970 کی دہائی میں قائم کردہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہی کا بھی اعزاز حاصل ہے جس سے خالدہ ضیا کے بنگلہ دیش کے میدانِ سیاست میں قد کاٹھ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب شیخ حسینہ واجد نے جون 1996 سے جولائی 2001 تک اور بعد میں جنوری 2009 سے اگست 2024 تک تختِ بنگلہ دیش پر ایسا قبضہ کیا جو جمہوریت کے لبادے میں آمریت سے کسی بھی طرح کم نہیں کہا جاسکتا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک اور اس کے مطالبات ہیں۔
طلبہ تحریک کا سب سے بڑا مطالبہ ہی یہی تھا کہ شیخ حسینہ واجد فوری طور پر استعفیٰ دیں جس کے بعد حسینہ واجد کیلئے ملک میں رہنا ہی ناممکن بن گیا کیونکہ حالات کشیدہ ہوچکے تھے اور ایسے میں ملک کی نئی وزیراعظم کے طور پر ایک بار پھر عوام کی بڑی تعداد خالدہ ضیا کی طرف دیکھ رہی ہے۔
ابھی تک ملک میں عبوری حکومت کے قیام کا فیصلہ تو ہوا ہے، لیکن آئندہ عام انتخابات میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا، یہ کوئی نہیں جانتا، یہ بات طے ہے کہ شیخ حسینہ واجد جس نے دنیا کی طویل ترین عرصے تک حکومت کرنے والی خاتون سربراہ کا اعزاز حاصل کیا، ان کا دور اب ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکا ہے۔
ایسے میں ملک میں طویل عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی سابق وزیراعظم سے بڑھ کر عوام کے ووٹ کا حق دار کون ہوسکتا ہے؟ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر خالدہ ضیا آئندہ کے انتخابات میں حصہ لیں تو ہمدردی کا ووٹ بنگلہ دیش کے عوام ان کے ہی پلڑے میں ڈالیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








