جنرل فیض حمید کی گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا۔ حامد میر

تازہ ترین

تازہ ترین

جنرل فیض حمید
(فوٹو: وائس آف امریکا)

اسلام آباد: سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کی ہے وہ بہت اہم ہے جس کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ جنرل فیض حمید کو ٹاپ سٹی کیس پر حراست میں لیا گیا ہے۔

گفتگو کے دوران سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جنرل فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جن پر کارروائی کی گئی ہے۔ بطور سابق سربراہ آئی ایس آئی اور سابق کور کمانڈر پشاور انہوں نے جو کچھ کیا، اس پر پوری کتاب لکھ سکتا ہوں۔

سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا یہ بیان بہت اہم ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل فیض حمید کیا کر رہے تھے؟ جنرل فیض حمید کا فوج کی تحویل میں لیا جانا یا گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی عدم گرفتار قیادت جو ملک سے باہر ہے، ان سے بہت تنگ تھی۔

حامد میر نے کہا کہ جنرل فیض حمید کسی نہ کسی کو بیچ میں ڈال کر ان سے رابطہ کرکے ڈکٹیٹ کرتے تھے کہ تمہیں یہ کرنا چاہئے اور یہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس کا نام لو اور اس کا مت لو۔ اس پر پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے جیل میں عمران خان سے بات کی کہ جنرل فیض حمید کس چکر میں ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کا ایک اجلاس ہوا جس میں سینئر قیادت نے مشاورت کی کہ جنرل فیض حمید کا کیا کریں؟یہاں انکشاف ہوا کہ جنرل فیض حمید کس کس سے رابطے میں ہیں اور پھر فیصلہ ہوا کہ ہم جنرل صاحب سے رابطے منقطع کردیتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کی گرفتاری کا دوسرا فائدہ فوج کو ہوگا۔

بیان کے مزید نکات

ٹی وی ٹاک شو کے میزبان اور صحافی حامد میرنے کہا کہ فوج کے خلاف یہ تاثر ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے اور سیاست دانوں کو پکڑتی ہے۔ خود فوج میں جو کالی بھیڑیں ہیں، ان کو نہیں پکڑا جاتا۔ جنرل فیض حمید کی گرفتاری اور اس کے خلاف کارروائی سے فوج کے امیج میں جو دراڑیں ہیں، انہیں پر کرنے میں بڑی کامیابی ہوگی۔ ضروری ہے کہ وہ غلطیاں نہ کی جائیں جو 9مئی کے واقعات کی انکوائری کے حوالے سے کی گئیں۔ جنرل فیض حمید کے خلاف ان کے پاس کافی ثبوت موجود ہیں۔

صحافی حامد میر نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں جس بندے نے تحریکِ انصاف کے لوگوں کو گمراہ کیا، وہ جنرل فیض حمید ہیں، جس کے ثبوت فوج کے پاس موجود ہیں۔ فوج کے بھی کچھ افسران کو جنرل فیض حمید گمراہ کر رہے تھے۔ جنرل فیض حمید پی ٹی آئی کے لوگوں کو مجبور کرتے تھے کہ فوج کے فلاں، فلاں اور فلاں افسر پر تنقید کریں۔ تین افسران کا تو مجھے پتہ ہے کہ ان پر تنقید کروائی گئی۔ تحریکِ انصاف کی طرف سے مزاحمت ہوتی تھی کہ آپ ایسے نہ کریں، فوج سے براہِ راست لڑائی نہ کروائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوتا یہ تھا کہ سارے کا سارا بوجھ عمران خان خود اٹھا لیتے تھے۔ جنرل فیض حمید نے آرمی چیف بننے کیلئے نومبر 2022 میں بھرپور لابنگ کی۔ کور کمانڈر کی حیثیت سے وہ اپنے رشتہ داروں کی مدد سے نواز شریف سے لندن میں  اور شہباز شریف جو وزیراعظم تھے، ان کی کابینہ کے لوگوں کے ذریعے یہاں رابطہ کرتے تھے۔ شہباز شریف کو ٹریپ کرنے کی بھی کوشش کی۔جنرل فیض حمید نے کوشش کی کہ شہباز شریف ایک چھوٹی سی نجی میٹنگ میرے ساتھ کرلیں، میں آپ کو بڑی اہم بات بتانا چاہتا ہوں۔
شہباز شریف نے ان کی بات نہیں مانی اور ملاقات نہیں کی تو جنرل فیض حمید نے اپنا ایک رشتہ دار بیچ میں ڈالا۔ عمران خان سمجھتے تھے کہ جنرل فیض حمید میرے آدمی ہیں اور وہ شہباز شریف کو کہتے تھے کہ میں تمہارا آدمی ہوں۔ جب انہیں آرمی چیف نہیں بنایا گیا تو انہوں نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف تحریکِ انصاف کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ تحریکِ انصاف نے جنرل فیض حمید کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ فوج میں بغاوت کے سرغنہ جنرل فیض حمید تھے اور الزام عمران خان پر لگایا جاتا ہے۔

Related Posts