لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش کو چیلنج کرنے والی درخواست آج سماعت کے لیے مقرر کردی۔
ایک شہری ندیم نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں بغیر کسی معقول وجہ کے انٹرنیٹ کو ’جان بوجھ کر‘ سست کیا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ انٹرنیٹ کی بندش سے آئی ٹی سے متعلقہ کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا کہ جب دنیا جدید ٹیکنالوجی سے ترقی کر رہی ہے تو پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تباہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں اور نوجوان آن لائن کاروبار کے ذریعے اربوں روپے کما رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے کافی نقصان ہو رہا ہے۔
درخواست گزار نے ہائیکورٹ سے درخواست کی کہ جان بوجھ کر انٹرنیٹ کی بندش کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ مستقبل میں انٹرنیٹ بند نہ کرے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ آج درخواست پر سماعت کرے گا جس کے بعد جلد فیصلہ متوقع ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی ’سست‘ خدمات کی شکایات کا جواب دیا تھا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس پلوشہ خان کی زیر صدارت ہوا۔
سینیٹر افنان اللہ اور سینیٹر ہمایوں سمیت کمیٹی کے اراکین نے انٹرنیٹ کی کم رفتار کی وجہ سے پاکستان سے کئی ای کامرس پلیٹ فارمز کے جانے کی شکایت کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








