ایم پوکس کیا ہے، اس کی علامات کیا ہیں اور اس کا علاج کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو این ڈی ٹی وی

کورونا وبا کے بعد دنیا میں منکی پوکس کی بیماری وبا کی صورت میں ایک بڑے خطرے کے طور پر سر اٹھا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بدھ کے روز وائرل بیماری کے حوالے سے اپنی اعلیٰ ترین سطح کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال افریقا میں 14 ہزار سے زائد کیسز اور 524 اموات پہلے ہی گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے زیادہ ہو چکی ہیں، آئیے اس بیماری سے جڑی تفصیلات جانتے ہیں۔

منکی پوکس کیا ہے؟

موقر معاصر ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ منکی پوکس ایک وائرل انفیکشن ہے جو بنیادی طور پر انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔

اس کا تعلق وائرس کے اس گروپ سے ہے جسے “آرتھوپوکس وائرس جینس” کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ یہ عام طور پر پوکس جیسی بیماری کا سبب بنتے ہیں ، جس میں جلد پر دھبوں یا چھالوں کے ساتھ دانے شامل ہوتے ہیں۔ دھبے اکثر پس سے بھرجاتے ہیں اور آخر کار خشک ہو کر ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

علامات

منکی پوکس کی علامات میں بخار ، سر درد ، پٹھوں میں درد ، اور مخصوص قسم  کے دانے شامل ہیں جو چہرے ، ہاتھوں ، پیروں اور جسم کے دیگر حصوں پر ظاہر ہوسکتے ہیں۔ دانے بالآخر شفا یابی سے پہلے پسٹیول(آبلے) اور خارش بناتے ہیں۔ پسٹیول – جو ایک بڑے سفید یا پیلے دانے کی طرح لگتا ہے – جلد پر ایک چھوٹا سا ، اونچا دھبہ ہے جو پس سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔

لیمف نوڈز، لوبیا کی شکل کے غدود جو مدافعتی نظام کا حصہ ہیں، وائرس سے لڑنے کی کوشش کرتے وقت بھی پھول سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جگہیں جو واقع ہیں ان میں دونوں  بازوں  کے نیچے ، اور گردن کے اطراف اور پیچھے شامل ہیں۔ شاذ و نادر صورتوں میں، انفیکشن مہلک ہوسکتا ہے۔

دورانیہ

مجموعی طور پر، ایک انفیکشن دو سے چار ہفتوں تک رہ سکتا ہے۔ وائرس کے سامنے آنے کے بعد علامات ظاہر ہونے میں تین سے 21 دن لگ سکتے ہیں تاہم ایک شخص علامات ظاہر ہونے سے ایک سے چار دن پہلے دوسروں کو بیماری منتقل کرسکتا ہے۔

علاج

 

ایم پوکس کے پھیلاؤ کو انفیکشن روک کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور یسا کرنے کا بہترین طریقہ ویکسین کا استعمال ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے حال ہی میں دوا ساز کمپنیوں سے کہا ہے کہ جن ممالک میں اشد ضرورت ہے وہ اپنی ایم پوکس ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لیے پیش کریں، بے شک یہ ویکسین باضابطہ طور پر منظور شدہ نہ بھی ہو۔

اب جبکہ صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا ہے، امید ہے کہ حکومتیں اپنے ردعمل کو بہتر طریقے سے مربوط کر کے ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں طبی سامان اور امداد پہنچانے میں تیزی لائیں گی۔

 

Related Posts