پاکستانی لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوکر دو بچے چھوڑ کر انڈیا سے پاکستان آنے والی خاتون جو 4 ماہ پاکستان میں رہ کر واپس انڈیا چلی گئی تھیں، کا اپنے مستقبل کے حوالے سے نیا بیان سامنے آیا ہے۔
گزشتہ برس جولائی میں انڈیا سے پاکستان آکر دیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان نصر اللہ سے شادی کرنے والی انجو جنہوں نے بعد ازاں اسلام قبول کرکے اپنا نام فاطمہ رکھا تھا، انڈیا واپسی کے نو ماہ بعد انڈین میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔
انجو فاطمہ نے اپنے مسلمان دوست نصر اللہ سے شادی کرنے کیلئے اپنے آبائی مذہب مسیحیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے انڈیا واپس جانے کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ انڈیا جاکر نصر اللہ کا نام تک نہیں لیں گی اور شاید اپنے پرانے خاندان میں لوٹ جائیں۔
تاہم اب انڈین میڈیا پر آکر فاطمہ انجو نے ان تمام قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اب بھی نہ صرف نصر اللہ کے نکاح میں ہیں بلکہ ان سے محبت کرتی ہیں۔
انجو فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ نصر اللہ کے انڈیا آنے کی منتظر ہیں اور انہیں انڈیا لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انجو فاطمہ نے بتایا کہ وہ پاکستان پراسس کے ذریعے گئی تھیں اور جاتے وقت ہی واپس آنے کا پلان کرکے گئی تھیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بچوں اور زیوارت لیکر پاکستان سے بھاگنے والی سیما حیدر کو بھگوڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس بھگوڑی کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے۔
انجو فاطمہ نے کہا کہ وہ کوئی چوری چکاری کرتے ہوئے نہیں گئی تھیں، وہ ہمیشہ سے ایک خود مختار عورت ہیں اور اپنے ارادے گھر میں ظاہر کرکے قانونی پراسس کے ذریعے گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں کوئی چوری چھپے بھاگ گئی ہوتی تو انڈیا کبھی واپس نہ آتی، جیسے سیما کبھی بھی لوٹ کر پاکستان نہ جانے کی بات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے ان کے ساتھ ہیں، سابقہ شوہر نے ہی بچے لاکر ان کے حوالے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں اکٹھے رہنے کا موقع نہ ملا تو مستقبل میں وہ اور نصر اللہ کسی تیسرے ملک میں جا کر رہ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








