کراچی میں مذہبی جماعت کی ریلی پر حملہ، 2 کارکن جاں بحق، علاقے میں شدید ہنگامہ آرائی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ڈان

کراچی کے علاقے لسبیلہ کے قریب تنظیم اہلسنت والجماعت کے جلوس پر حملہ ہوا ہے، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیر لیا۔

کراچی سول اسپتال سے اپنے ویڈیو بیان میں اہلسنت والجماعت کے رہنما علامہ تاج حنفی نے بتایا کہ ان کے پر امن جلوس پر لسبیلہ کے قریب براہ راست فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں دو کارکن جاں بحق اور نو کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کی شناخت عمیر سلطان اور جنید مہدی کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد مشتعل افراد نے گولیمار میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی، گولیمار سے گرومندر، پٹیل پاڑہ اور اطراف کی شاہراہوں پر خوف کی فضا ہے۔

گولیمار میں دو مذیبی جماعتوں کے درمیان اس کشیدگی میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ جلائی گئی گاڑیوں میں ایک کوچ، تین موٹر سائیکلیں، ایک رکشہ، ایک شہزور ٹرک اور ایک ہائی روف شامل ہے۔

فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ آگ بجھانے کے لئے آنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑی پر بھی مشتعل افراد نے دھاوا بول دیا، جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔

واقعے کے بعد ایس ایس پی سینٹرل جائے وقوع پہنچ گئے، پولیس کی بھاری نفری بھی جائے وقوع پر موجود ہے، حالات پر قابو پانے کیلئے پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے بتایا کہ دو جماعتوں میں تصام ہوا ہے، سپاہ صحابہ کی ریلی امام بارگاہ کے باہر سے گزر رہی تھی، تصادم اہلسنت اور اہل تشیع میں ہوا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے، پولیس معاملہ کنٹرول کر رہی ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ریلی آرہی تھی جس پر پتھراؤ ہوا، فائرنگ بھی ہوئی اور دو افراد جاں بحق ہوئے، کچھ گاڑیاں بھی جلائی گئی ہیں۔ ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ اچانک جھگڑا ہوا جس کے باعث دو گروپس میں تصادم ہوا۔

کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ کشیدہ صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے، ایس ایس پی سینڑل خود اسپاٹ پر موجود ہیں، فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، رینجرز کی بھاری نفری بھی پہنچ رہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کو فون کیا ہے اور گولیمار واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ پولیس فوری طور پر امن وامان کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرے۔

ضیاء النجار نے جلاؤ گھیراؤ اور فائرنگ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ واقعہ میں جو بھی ملوث ہے اسے فوری گرفتار کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی گولیمار میں اہل سنت و الجماعت کی ریلی پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے جانی نقصان پر مذمت اور دکھ کا اظہارکیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ریلی پر فائرنگ کرنے والوں فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں کسی کو امن خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ سینئر افسران خود معاملات کو دیکھیں اور اہل سنت والجماعت کی قیادت سے بات کریں۔

Related Posts