وہ باہمت بزرگ پشتون استاد جس نے قبیلے کی مخالفت کے باوجود اپنی 13 بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عرب نیوز

 ایک عمر رسیدہ پشتون اسکول ٹیچر نے پشتون قبائلی روایات کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی 13 بیٹیوں کو یونیورسٹیوں کی اعلیٰ تعلیم دلوا کر ہمت، جرات اور تعلیم دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے۔

صوبہ کے پی کے کے ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ استاد فضل حق کے لیے تعلیم کا حصول محض ایک ذاتی مقصد اور شوق نہیں تھا بلکہ اپنے بچوں خصوصاً بیٹیوں کے لیے خود انحصاری کا ایک دروازہ تھا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسے دور میں 1970 کے عشرے میں جب پاکستان کے شمال مغربی ضلع کرک میں تعلیم ایک غیر معمولی اعزاز تھا، استاد فضل حق نے اپنی پہلی بیٹی نگہت پروین کو اسکول بھیج کر ترقی پسند سوچ کا مظاہرہ کیا۔

اگرچہ 82 سالہ بزرگ نے باقاعدہ طور پر کبھی کالج میں داخلہ نہیں لیا، لیکن انہوں نے اپنی تمام 13 بیٹیوں اور چار بیٹوں کو تعلیم دینے سے پہلے پرائیویٹ تعلیم حاصل کی اور بالآخر عربی، اردو ادب اور اسلامی علوم میں پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں حاصل کیں۔

عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو میں فضل حق نے بتایا کہ اس زمانے میں بہت کم مرد اسکول جاتے تھے اور خواتین کا تعلیم حاصل کرنا تو ایسا تصور تھا کہ عملی طور پر لوگوں نے اس کے بارے میں سنا نہیں تھا۔ پھر بھی سماجی مجبوریوں کے باوجود میں نے اپنی بیٹی پروین کو معاشرتی اصولوں کے خلاف اسکول بھیجنے کا فیصلہ کیا جو پہلے کسی نے نہ کیا تھا۔

فضل حق استاد نے کہا کہ ایک نئی بنیاد رکھنے والا ان کا انتخاب ابتداً تو امید افزا لگتا تھا اور ان کی بیٹیوں کی ابتدائی تعلیم بآسانی آگے بڑھ رہی تھی لیکن جیسے جیسے وہ بڑی ہوئیں، ان کے خاندان میں اختلافی آوازیں بلند ہوتی گئیں۔

رشتہ داروں نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینے کے لیے ان کی دانشمندی پر سوال اٹھائے اور مزاحمت بڑھ کر قطع تعلق تک کی دھمکیوں تک آن پہنچی لیکن وہ پرعزم اور اپنے موقف پر قائم رہے اور ان کی بیٹی نے اپنے علاقے میں کئی لوگوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آٹھویں اور دسویں جماعت کے دونوں امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔

استاد فضل حق کی بیٹی پروین نے 1986 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر وہ تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھتی تھیں اور رکاوٹوں بھرے راستے پر صرف اپنے والد کے مشن کو پورا کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اکثر لڑکوں سے بھرے کمرے میں واحد لڑکی ہوتی تھی۔ ایک کونے میں اپنے ساتھیوں سے الگ تھلگ بیٹھ کر احساس ہوتا تھا کہ عورت کو کیسے معاشرے کی جانچ پڑتال کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور ’غیریت‘ کی اذیت کیا ہوتی ہے، اس کے باوجود تعلیم کے حصول میں ثابت قدم رہی۔

پروین آج استقامت کی طاقت اور تعلیم کی اہمیت کا ثبوت ہیں۔ اس وقت وہ کرک میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور آئندہ نسلوں کی ذہن سازی کر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنی تمام 12 بہنوں اور چار بھائیوں کے لیے ایک اعلیٰ معیار مقرر کیا جو اب انگریزی ادب، پولیٹیکل سائنس، تاریخ، نباتیات، حیوانیات اور فزکس جیسے مختلف شعبوں میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ استاد فضل حق کی تمام بیٹیاں اس وقت سرکاری استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

بزرگ اور باہمت استاد نے کہا کہ تعلیم خواتین کو علم اور اعتماد سے آراستہ کرتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے معاشی معاملات میں فعال کردار ادا کریں جس سے مالی مدد کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

اب استاد فضل حق اور ان کی اہلیہ جہاں بانو دونوں اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم کے بارے میں ان کا نکتۂ نظر انہی ناقدین نے قبول کر لیا ہے جسے کبھی معاشرے نے بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا تھا۔

فضل حق استاد کا کہنا تھا کہ زندگی کے اس آخری مرحلے میں جب میں اپنی بالکونی سے اسکول یونیفارم میں نوجوان لڑکیوں کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی جاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔

Related Posts