اختر مینگل نے حکومتی آئینی ترمیم کی حمایت کیلئے بڑی اہم شرط رکھ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ڈان

عدالتی اصلاحات سے متعلق آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومت اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ اور رابطے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آج ہونے والے اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہیں قومی اسمبلی میں آئینی ترامیم پیش کرنے کے لیے حکومت کے اپنی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے ساتھ رابطے جاری ہے۔

اتوار کے روز اس سلسلے میں سب سے پہلا رابطہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ قانون نے بلاول بھٹو زرداری سے کیا۔ دونوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بلاول بھٹو زرداری کے چیمبر میں جا کر ان سے ملاقات کی اور آئینی ترامیم کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جس کے بعد حکومتی وفد سپیکر آفس چلا گیا جہاں مزید تبادلہ خیال ہوا۔

اسی دوران حکومت نے ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا اور ان کے رہنماؤں کو آئینی ترمیم کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنی رہائش گاہ پر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا جہاں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان موجود تھے اسی دوران حکومتی وفد اسحاق ڈار کی سربراہی میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچا اور انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔

اس سے قبل مولانا فضل الرحمان کی خواہش پر حکومت نے ان کی جماعت سے آئینی ترمیم کا مسودہ بھی شیئر کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی پارٹی کے اندر اور دیگر آئینی ماہرین سے مشاورت بھی کی اور اپنی تجاویز بھی دیں۔

دوسری جانب سینیٹ میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے دو سینیٹرز کے ووٹ انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور اطلاعت کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے ترامیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد حکومتی سطح پر اختر مینگل سے رابطے جاری ہیں۔

صحافی حامد میر کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے لکھا کہ ’جی، یہ میرا  مطالبہ ہے۔ 2000 لوگوں کو فوری طور پر رہا کریں اور میرا ووٹ آپ کا ہے۔‘

Related Posts