کراچی: کے الیکٹرک نے واضح کیا ہے کہ کمپنی کے سی ای او سے اس کے لائسنس کی منسوخی سے متعلق بیان سے منسوب حالیہ رپورٹس غلط ہیں۔
کمپنی کے ترجمان نے واضح طور پر اس طرح کے کسی بھی معاملے پر بحث کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ “کے الیکٹرک کے سی ای او نے لائسنس کی منسوخی پر بات نہیں کی۔”
کے الیکٹرک نے اپنی خدمات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی طرح کے دعوے گمراہ کن ہیں۔
گزشتہ روز یہ اطلاع ملی تھی کہ کے الیکٹرک کے سی ای اومونس علوی نے سندھ حکومت سے کہا تھا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنی کا لائسنس منسوخ کرکےبجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے دوران مونس علوی نے اعتراف کیا کہ کے الیکٹرک لوڈ شیڈنگ کرتی ہے لیکن واضح کیا کہ کمپنی بجلی کے نرخ مقرر نہیں کرتی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ لوڈ شیڈنگ بنیادی طور پر ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں بجلی کی زیادہ چوری ہوتی ہے، جن علاقوں میں چوری کم ہوتی ہے وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مخصوص علاقوں میں غیر ادا شدہ بل مزید بندش کا باعث بنتے ہیں، اس موضوع پر پہلے قومی اسمبلی میں بحث کی گئی تھی۔
کمیٹی کے ارکان سعدیہ جاوید، شبیر قریشی اور سلیم بلوچ نے کے الیکٹرک کے آپریشنز پر تحفظات کا اظہار کیا۔
سعدیہ جاوید نے نشاندہی کی کہ کے الیکٹرک کو کراچی کے لوگوں کی جانب سے بے شمار شکایات کا سامنا ہے جبکہ شبیر قریشی نے چوری پر مبنی لوڈ شیڈنگ کا جواز پیش کرنے پر کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ صارفین کو دوسروں کے اعمال کی سزا کیوں دی جاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








