روسی حکومت نے آبادی میں اضافے کیلئے ‘سیکس ایٹ ورک’ کی اسکیم متعارف کرادی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو فاکس نیوز

روس کی جانب سے آبادی بڑھانے کیلئے شرمناک اسکیم متعارف کرادی گئی جس پر تہلکہ مچ گیا ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق روس کی گھٹتی آبادی کے باعث صدر پوٹن اس رجحان کو پلٹنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کریملن کے ایک ڈاکٹر کی جانب سے اس حوالے سے ایک شرمناک اسکیم سیکس ایٹ ورک کا خیال تجویز کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کریملن کے اعلیٰ ڈاکٹر کا روسی شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کم ہوتی آبادی کا مقابلہ کرنے کیلئے اس اسکیم پر عمل کرنے کی درخواست کی گئی۔

فاکس نیوز کے مطابق صدر پوتن کی جانب سے لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی کوششوں کے باوجود روس کی شرح پیدائش 25 سالوں میں سب سے کم سطح پر دیکھی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ملکی آبادی کو بڑھانے کے لیے نقد مراعات، ٹیکس میں چھوٹ، اور اسقاط حمل کی حوصلہ شکنی کی گئی جس پر کام نہیں ہوا۔ حالیہ نتائج کے مطابق روس میں 2024 کے ابتدائی چھ ماہ میں شرح پیدائش ایک چوتھائی صدی کے دوران کمی واقع ہوئی ہے۔

گزشتہ ہفتے یوریشین ویمنز فورم کے دوران خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے ورک پلیس پر خواتین کے کردار کی حوصلہ افزائی کی، لیکن انہوں نے شرح پیدائش میں اضافے کے لیے اپنی اسکیم کو بھی دہرایا۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ خواتین کام اور بچوں کو ایک ساتھ سنبھال سکتی ہیں کیونکہ ان میں ایک خاص صلاحیت ہوتی ہے جسے مرد نہیں سمجھ سکتے۔

اس حوالے سے جب ایک خاتون رپورٹر نے روسی وزیر صحت ڈاکٹر یوگینی شیسٹوپالوف سے پوچھا کہ خواتین کام اور خاندان میں توازن کیسے رکھ سکتی ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ کام میں مصروف ہوجانا خاندانی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کی اچھی وجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بہانہ ہے۔

آبادی بڑھانے کی یہ شرمناک اسکیم کیا ہے؟
روس کی گرتی ہوئی آبادی سے منسلک تشویش کے درمیان گرتی ہوئی آبادی کی شرح کو سنبھالنے کیلئے کریملن کی جانب سے جو تجویز دی گئی ہے وہ خاصی شرمناک قسم کی ہے۔

آخر یہ اسکیم کیا ہے، اس کے متعلق زیادہ تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں تاہم روسی وزیر صحت نے بتایا ہے کہ خواتین کام کے دوران وقفے (بریک ٹائم) میں افزائش نسل کا عمل (سیکس) کر سکتی ہیں۔

Related Posts