اسلام آباد: اسٹیٹ بینک سے آئی پی پیز کی اوور انوائسنگ پر تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔ یہ تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے طلب کیں۔
اوور انوائسنگ سے مراد کسی انوائس میں اپنی خدمات یا مصنوعات کے دام مقررہ حد سے زیادہ بتانا ہے۔ کاروبار میں زیادہ یا کم منافع لینا یا منافع لینے اور نہ لینے کا فیصلہ کاروباری شخص کا استحقاق ہے تاہم اوور انوائسنگ کوئی قابلِ قبول رویہ نہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کی اور اجلاس کے دوران آئی ایم ایف کے فنڈز کے استعمال پر مختلف سوالات پوچھے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد آئی ایم ایف سے کتنی رقم آئی؟
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ آئی ایم ایف سے جو رقم آئی، کہاں اور کتنی خرچ ہوئی؟ اسٹیٹ بینک کے کمیٹی میں پیش ہونے والے حکام نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کی تفصیلات کمیٹی کے سامنے رکھ دیں گے۔ اجلاس میں تربیلا کے پانچویں توسیع ہائیڈرو پاور منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔
قائمہ کمیٹی اجلاس میں ہائیڈرو پاور منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران توسیع پراجیکٹ میں تاخیر کے باعث ڈیڑھ کروڑ ڈالرز سود کی مد میں کٹوتی کا انکشاف بھی سامنے آیا۔ رکن کمیٹی کامل علی آغا کا کہنا ہے کہ یہ پیسے قوم کے ہیں، کسی کے باپ کے نہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ منصوبے میں تاخیر کے باعث سود کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین کرکے سزا دی جائے۔ اس دوران اوور انوائسنگ کے باعث قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان پر بھی گفتگو ہوئی۔
اوور انوائسنگ کیا ہے؟
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، کاروباری حضرات یا کمپنی کوٹیشن یا انوائس میں مقررہ حد سے زیادہ منافع رکھ کر ریٹ دیں یا دی گئی خدمات کا معاوضہ حاصل کرنے کیلئے درخواست دیں، تو اسے اوور انوائسنگ کہا جائے گا۔ منافع کم یا زیادہ ہوسکتا ہے لیکن ناجائز حد تک زیادہ نہیں جسے اوور انوائسنگ کا نام دینا پڑے۔
اپنی تعریف کے اعتبار سے اوور انوائسنگ ایک ایسی انوائس جاری کرنے کا نام ہے جہاں اپنی خدمات یا مصنوعات کے حقیقی معاوضے یا قیمت کی بجائے زیادہ رقم مانگی جائے جس کی وجہ ٹیکس سے بچنا، کوئی غلط فہمی یا پھر فراڈ ہوسکتا ہے، جس سے بچنا خدمات کی حقیقی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے، نہ کہ حد سے زیادہ ادائیگی کی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








