ن لیگی سینیٹر عرفان صدیقی کی طوفانی پریس کانفرنس، عدلیہ پر سنگین سوالات اٹھا دیے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو بزنس ریکارڈر

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ہم اپنی حدود میں رہنا چاہتے ہیں، ہمیں حدود میں رہنے دیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ آپ آئین نہیں بناتے، آئین اور قانون ہم بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے پارلیمان کو نہیں، پارلیمنٹ نے آپ کو بنایا، ہم نے کہا آپ 17 ہوں گے تو آپ 17 ہیں، ہم نے کہا کہ آپ کی تنخواہ اور پنشن اتنی ہوگی تو وہی طے ہے۔

عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ آئین کہتا ہے کہ مجلس شوریٰ کی اتھارٹی کی کوئی حد ہی نہیں جب آئین کہتا ہے کہ کوئی ترمیم چیلنج نہیں ہوسکتی تو پھر کیسے ہوتی ہے؟

 ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے میں انہونی چیزیں ہوئیں، کئی سوال پیدا ہوگئے، آئے دن قانون یہ کہہ کر ختم کردیا جاتا ہے کہ یہ آئین سے متصادم ہے، ہم غلطی کرتے ہیں تو عدلیہ اصلاح کردیتی ہے، عدلیہ آئین سے متصادم فیصلہ کرے تو کون ٹھیک کرے گا؟

لیگی سینیٹر نے سوال اٹھایا کہ جب آئین و قانون تین دن کا کہتا ہے تو آپ 15 دن کہاں سے لے آئے؟ یہ اختیار کہاں سے ہے؟ اگر آپ نے یہ اختیار لے لیا ہے تو غلط ہے، آئین یہ کہتا ہے کہ جیتنے والا امیدوار تین دن میں کوئی پارٹی جوائن کرے، معزز ججز بھی انسان ہیں، ان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے، آپ آئین کی پاسداری نہ کریں تو ہم کہاں جائیں؟

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 ہے اور 2 ایڈہاک ججز تعینات کیے گئے ہیں۔

Related Posts