پاکستانی بینڈ جل کی 12 سال بعد ڈھاکہ واپسی، کنسرٹ بدنظمی کا شکار

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistani band Jal returns to Dhaka after 12 years

پاکستانی پاپ راک بینڈ جل نے 12 سال بعد ڈھاکہ میں پرفارم کیا ، بینڈ “لیجنڈز آف دی ڈیکیڈ” کے کنسرٹ کا مرکزی حصہ رہا تاہم یہ ایونٹ جو اصل میں جمعہ کو ہونا تھا، شدید بدنظمی کی وجہ سے ایک دن بعد ہوا اور افراتفری کے ماحول میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔

پہلے یہ کنسرٹ پوربچل ایکسپریس وے پر واقع ڈھاکہ ایرینا میں منعقد ہونا تھا لیکن سیکورٹی خدشات کی بنا پر اسے ہفتے کے روز جمونا فیوچر پارک کے نارتھ کورٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ڈھاکہ ایرینا کا مقام مناسب طور پر تیار نہیں تھا۔ اچانک مقام کی تبدیلی اور ہجوم کی بدنظمی نے شرکاء میں الجھن اور بے چینی پیدا کر دی۔

اس ایونٹ میں جل کے ساتھ تین مشہور بنگلہ دیشی بینڈز آرتھوہین، وائکنگز اور کنکلوزن بھی شامل تھے۔ کنسرٹ کا آغاز دوپہر میں کنکلوزن کی پرفارمنس سے ہوا، لیکن جلد ہی مسائل پیدا ہونے لگے کیونکہ مقام پر حد سے زیادہ رش ہو گیا۔ ایک موقع پر، گیٹس توڑ دیے گئے اور لوگ بغیر ٹکٹ کے اندر داخل ہو گئے، جس سے وہ لوگ ناراض ہو گئے جنہوں نے داخلہ کے لیے 3050 ٹکا ادا کیے تھے۔

وائکنگزجو اپنے 27 ویں سالگرہ منا رہے تھے، کنکلوزن کے بعد اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے پانچ گانے پیش کیے لیکن چھٹے گانے “نیل ہو بو” کے دوران بدامنی کے باعث پرفارمنس روکنی پڑی۔ اس کے بعد کنسرٹ کو ایک گھنٹہ اور تیس منٹ کے لیے معطل کر دیا گیا، اور صورتحال مزید بگڑتی گئی کیونکہ مزید لوگ مقام میں داخل ہونے لگے۔

آسن کے سی ای او، آنندو چودھری، جو منتظمین میں سے ایک تھے، اسٹیج پر آ کر ہجوم سے خطاب کیا اور اعلان کیا کہ نارتھ کورٹ کا راستہ کھول دیا جائے گا تاکہ مزید لوگوں کو جگہ مل سکے۔ تاہم بدامنی جاری رہی، جس کے بعد جمونا گروپ کے ڈائریکٹر عالمگیر عالم کو مداخلت کرنی پڑی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حفاظتی خدشات کی بنا پر کنسرٹ کو جمونا فیوچر پارک منتقل کیا گیا لیکن دکانداروں میں خوف و ہراس اور ایونٹ کو روکنے کی متعدد درخواستوں کے باعث فوج کو حفاظتی مدد کے لیے بلانا پڑا۔

فوج کی مداخلت سے نظم و ضبط بحال ہوا اور کنسرٹ دوبارہ شروع ہوا، ۔ اس موقع پر ان کے فرنٹ مین، سائیڈس صالحین سمن، جو صحت کے مسائل کے باعث ایک سال سے غیر حاضر تھے، دوبارہ واپس آئے۔ آرتھوہین نے اپنے مداحوں کے پسندیدہ گانے “چاہتیے پارو” سمیت متعدد گانے پیش کیے، جس سے ہجوم میں جوش و خروش پیدا ہوا۔

آخر کار رات کے مرکزی حصہ یعنی جل نے اسٹیج پر قدم رکھا اور شائقین کے زور دار نعروں کے ساتھ اپنے ہٹ گانے “وہ لمحے” سے آغاز کیا، اور اس کے بعد “عادت”، “پنچھی”، اور “بکھرا ہوں میں” جیسے مشہور گانے پیش کیے۔ یہ جل کا 2012 کے بعد بنگلہ دیش میں پہلا پرفارمنس تھا، جو ان کے ڈیبیو البم “عادت” کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر تھا۔

بدنظمی کے باوجود کنسرٹ ایک یادگار پرفارمنس کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں جل کے شائقین کو ان کے مشہور گانوں کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کرنے کا موقع ملا۔

Related Posts