ایسا بھی ہوتا ہے، تنگ آمد بجنگ آمد، عام طور پر پریشانی میں مبتلا لوگوں کی اونچی عمارت سے چھلانگیں لگانے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، تاہم اس بار تین ارکان اسمبلی کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کی عمارت سے چھلانگ لگانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
یہ افسوس ناک واقعہ بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کی اسمبلی میں پیش آیا ہے، جہاں ڈپٹی اسپیکر سمیت 3 اراکین نے سیکٹریٹ کی تیسری منزل سے بطور احتجاج چھلانگ لگا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نرہاری زروال اور دیگر 3 اراکین اسمبلی نے ممبئی میں واقع سیکرٹریٹ کی عمارت سے چھلانگ لگائی جبکہ چھلانگ لگانے والوں میں ایک بی جے پی کا رکن اسمبلی بھی شامل ہے۔
بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر اور تینوں اراکین اسمبلی نے حکومت کی جانب سے ڈنگر کمیونٹی کو قبائل کی فہرست (شیڈول ٹرائبز کیٹیگری) کا حصہ بنانے کے عمل کی مخالفت میں احتجاج کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عمارت سے چھلانگ لگانے کے باوجود ڈپٹی اسپیکر اور تینوں اراکین اسمبلی محفوظ رہے کیونکہ وہ ایک جالی (نیٹ) پر جاگرے جسے 2012 میں لوگوں کو خودکشی کی کوشش پر ان کی جان بچانے کے لیے وہاں لگایا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فی الحال اس وقت مہاراشٹرا کی ڈنگر کمیونٹی کو ایک خانہ بدوش کمیونٹی (Nomadic Tribes) کی حیثیت حاصل ہے جس کے تحت اسے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 3 فیصد کوٹا ملتا ہے جبکہ دیگر قبائل کی فہرست (شیڈول ٹرائبز کیٹیگریز) میں شامل کمیونٹیز کو ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 7 فیصد دیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








