طالبہ سے زیادتی کے نام پر افواہیں پھیلانے والا ٹک ٹاکر وکیل گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو یوٹیوب

لاہور میں طالبہ سے زیادتی کا دعویٰ کرنے والے ٹک ٹاکر وکیل نے گرفتاریاں شروع ہوتے ہی پینترا بدل لیا ہے، لیکن اس کی یہ کوشش کسی کام نہ آئی اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ گلبرگ میں واقع نجی کالج کی ایک طالبہ کو گارڈ نے ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔ جس کے بعد معاملہ شدت اختیار کرگیا۔

تاہم پولیس کا موقف آیا کہ واقعہ کی تصدیق نہیں ہوسکی اور وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلیٰ سطح کمیٹی بھی بنادی۔ پولیس کے نزدیک یہ تمام معاملہ جھوٹی خبر کا شاخسانہ ہے۔

اس ضمن میں طالبہ سے منسلک وائرل وڈیو کے خلاف ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس اے کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا اور ایف آئی اے نے افواہیں پھیلانے والوں کیخلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔

ان افواہ پھیلانے والوں میں لاہور کا ایک ٹک ٹاک وکیل فیصل جٹ بھی پیش پیش تھا اور اس نے بڑے بڑے دعوے کرکے جلتی پر تیل چھڑکنے میں اپنے حصے کا کردار بڑے جوش و جذبے سے ادا کیا تھا۔

تاہم اب جب افواہ ساز فیکٹریوں کے خلاف حکومت ایکشن میں آئی تو ٹک ٹاکر وکیل نے بھی کینچلی بدلی اور نئے ولاگ میں کہا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ سب لوگوں کو پیغام ہے کہ آپ احتجاج نہ کریں، احتجاج اگر کرنا بھی ہے تو کم از کم مدعی یا مدعیہ کو تو سامنے رکھیں، تاہم اس کے باوجود وہ قانون کی پکڑ سے نہ بچ سکا اور ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے فیصل جٹ کو حراست میں لے لیا۔

Related Posts