حکیم محمد سعید سندھ کے گورنر، ماہرطبیب، محقق، مصنف، اور سماجی خدمت گار اور تھے جنہوں نے طبّی شعبے اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، وہ ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی تھے اور ملک و قوم کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔
پیدائش:
حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور روایتی حکیم خاندان سے تھا، جس کی وجہ سے وہ کم عمری سے ہی طب اور حکمت کی طرف راغب ہوئے۔

اہم کارنامے:
تقسیم ہند کے بعد حکیم سعید وہ پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ان کی فاؤنڈیشن نے طبّی تعلیم کے فروغ اور ادویات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے زیر نگرانی ہمدرد یونیورسٹی کا قیام ہوا، جو پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ حکیم محمد سعید نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جن میں مفت طبی سہولتیں، تعلیمی ادارے اور تحقیقاتی مراکز شامل تھے۔
شہادت:
حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر 1998 کو کراچی میں ان کے دفتر کے باہر نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ ان کی شہادت کا سبب مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا، مگر اس کے پیچھے سیاسی اور مذہبی مقاصد کے شبہات ظاہر کیے جاتے ہیں۔ ان کی شہادت نے پاکستان کے عوام کو افسردہ کر دیا اور ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔
عمران خان کے بارے میں پیشگوئی:
حکیم محمد سعید نے اپنی زندگی میں کئی اہم موضوعات پر تحریریں کیں اور مختلف شخصیات کے بارے میں رائے بھی دی۔ حکیم سعید نے اپنی کتاب’جاپان کی کہانی‘میں عمران خان سے متعلق لکھا ”پاکستان کے ایک عمران خان کا انتخاب ہوا ہے، یہودی ٹیلی ویژن اور پریس نے عمران خان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا ہے، سی این این ، بی بی سی سب عمران خان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔

برطانیہ جس نے فلسطین تقسیم کرکے یہودی حکومت قائم کرائی وہ ایک طرف عمران خان کو آگے بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف آغا خان کو ہوائیں دے رہا ہے۔ اب عمران خان کی شادی یہودیوں میں کرا دی ہے، پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو کروڑوں روپے دئیے جا رہے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان بنا دیا جائے۔ وزارت عظمیٰ پاکستان کے لئے عمران خان کو ابھارا جا رہا ہے”۔
خدمات
حکیم محمد سعید کی خدمات اور ان کی شخصیت کی وسعت کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے طب، تعلیم، اور سماجی بہبود کے شعبے میں لازوال خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی اور شہادت ہمیں ایک ایسا سبق دیتی ہے کہ قوم کے لیے مخلصانہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








