یحی السنوار کو کیسے شہید کیا گیا، ان سے کیا برآمد ہوا، میت کہاں ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو الجزیرہ

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سربراہ یحییٰ سنوار کا پوسٹ مارٹم مکمل کرکے میت محفوظ کرلی گئی ہے۔

اخبار “اسرائیل ٹوڈے” نے وضاحت کی ہے کہ سنوار کی میت کا پوسٹ مارٹم ابو کبیر انسٹی ٹیوٹ فار فارنزک میڈیسن میں مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے “خفیہ” جگہ پر رکھا گیا ہے، اخبار کے مطابق حماس سربراہ کی میت کو مستقبل میں سودے بازی کی چپ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کتنی گولیاں لگیں، شناخت کیسے کی گئی؟

اخبار نے مزید کہا کہ پوسٹ مارٹم کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ السنوار کو سر پر گولی لگی تھی اور وہ کافی فاصلے سے چلائی گئی گولی سے مارے گئے، اس کے علاوہ ٹینک کا گولہ بھی ان کے جسم کے کچھ حصے کو لگا۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق کارروائی میں حصہ لینے والے فوجیوں نے شک کی بنا پر السنوار کی ایک انگلی کاٹ کر فنگر پرنٹ کی جانچ کے لیے اسرائیل بھیج دی تھی، جس سے ڈی این اے کے ذریعے سنوار کی شناخت کرلی گئی۔

حماس کے شہید سربراہ سے برآمد ہونے والا سامان

رپورٹ کے مطابق کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو معلوم نہ تھا کہ مارے جانے والے کون ہیں۔ یہ ایک اتفاقی اور حادثاتی کارروائی تھی۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے شائع کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ السنوار نقاب پہنے اس عمارت کے اندر ایک صوفے پر بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں انہوں نے پناہ لی تھی اور اپنے تعاقب کرتے اسرائیلی ڈرون کی طرف لکڑی کا تختہ پھینک رہے ہیں، اس کے بعد گولی ان کا نشانہ لیتی ہے۔

سنوار سے کیا برآمد ہوا؟

شہادت کے بعد حماس سربرہ کی جیب سے ایک عدد دعاؤں کا کتابچہ، ایک عدد تسبیح، کچھ ٹافیاں، ایک عدد گولی، چند کرنسی نوٹ اور ایک ٹشو پیپر برآمد ہوا۔

Related Posts