چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم، ترمیم کی مخالف پی ٹی آئی بھی شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو آج

چیف جسٹس پاکستان کی تعیناتی کیلٸے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل دے دی گئی، جس کیلئے پی ٹی آئی سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں نے اپنے نمائندگان کے نام دے دیے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ اور پارلیمانی لیڈران سے کمیٹی کیلئے نام طلب کئے، جس کے بعد چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی لیڈرز سے پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام مانگ لیے، 12 رکنی کمیٹی میں 8 ممبران قومی اسمبلی اور چار سینیٹ سے ہوں گے۔

پارلیمانی کمیٹی کیلٸے سینیٹ سے نمائندگی مکمل ہوگئی ہے، مسلم لیگ ن سے اعظم نذیر تارڑ، پیپلز پارٹی سے فاروق نائیک، جے یو آئی سے کامران مرتضیٰ اور سنی اتحاد کونسل نے علی ظفر کو نامزد کیا گیا ہے۔

اسپیکر کے خط کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی سے راجہ پرویز اشرف اور سید نوید قمر کا نام دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر دونوں میں سے کسی ایک نام کی منظوری دیں گے جبکہ پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کا نام چیئرمین سینیٹ کو بھجوادیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیف جسٹس تقرری پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بنے گی۔ اس ضمن میں سنی اتحاد کونسل نے تین نام فائنل کرلئے ہیں، سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور صاحبزادہ حامد رضا کو پارلیمانی کمیٹی کے لیے نامزد کیا گیا ہے، ساتھ ہی سینیٹر علی ظفر بھی پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ سے نمائندگی کریں گے۔

جمعیت علمائے اسلام نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بطور ممبر پارلیمانی کمیٹی نامزد کیا ہے، سینیٹ میں مولانا عطاء الرحمان نے کامران مرتضیٰ کا نام سینیٹ سیکریٹریٹ کو پہنچایا۔

مسلم لیگ ن نے سینیٹ سے پارلیمانی کمیٹی کیلئے اعظم نذیرتارڑ کا نام دے دیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی سے پارلیمانی کمیٹی کیلئے خواجہ آصف، احسن اقبال اور شائستہ پرویز کے نام دیے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے رعنا انصار کا نام دیا گیا ہے۔

Related Posts