چینی باشندوں پر حملے کے بعد کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ آنے والے شہریوں کے لیے نئی شرائط عائد کر دی گئی ہیں۔
ان شرائط کے تحت مسافروں کو استقبال اور رخصت کرنے کے لیے آنے والے افراد کو ایئرپورٹ میں داخلے سے قبل مذکورہ شخص کی فضائی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
مسافر کو رخصت کرنے یا اس کے استقبال کے لیے ایک ہی فرد ایئر پورٹ کی حدود میں داخل ہو سکے گا۔ حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر رش کم کرنے کے لیے ایک مسافر کے ساتھ ایک فرد کو ایئر پورٹ کی حدود میں داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مسافروں کو لینے یا رخصت کرنے کے لیے چار افراد کو ایئر پورٹ کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔
اپنے پیاروں کا استقبال کرنے یا انہیں الوداع کرنے کے لیے آنے والے افراد مسافر کا ٹکٹ یا فضائی سفر کی تفصیلات دکھا کر ہی ایئر پورٹ کی حدود میں داخل ہو سکیں گے۔
مسافروں کو لینے یا رخصت کرنے کے لیے آنے والے شہریوں کو اپنا قومی شناختی کارڈ بھی لازمی طور پر ساتھ رکھنا ہوگا۔ اس سے شناخت کی تصدیق میں آسانی ہو گی اور مشتبہ افراد کی تلاش میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ یہ فیصلے کراچی ایئرپورٹ کے قریب حالیہ دہشتگرد حملے کے پیش نظر کیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ سرگرمی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
چھ اکتوبر کی شب 11 بجے بیرون ملک سے آنے والے چینی قافلے پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں دو چینی باشندے اور ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 21 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے نے سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا تھا جس کے بعد پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے یہ اقدامات اُٹھائے ہیں۔ ان کا مقصد ائیرپورٹ پر کسی بھی قسم کے سکیورٹی رسک کو کم کرنا اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








