پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کے ہاتھوں چار رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے بعد پاکستان فوج کو وفاقی دارالحکومت میں تعینات کر دیا گیا ہے اور یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ فوج نے اسلام آباد میں کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے تاکہ شرپسند عناصر سے نمٹا جا سکے جو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے قافلے میں بڑی تعداد میں شہر میں داخل ہوئے۔
حکومت نے ابھی تک کرفیو کے نفاذ کی تصدیق نہیں کی ہے حالانکہ اقدام کے امکان کا عندیہ دیا ہے تاکہ حالات کو قابو میں کیا جا سکے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے مظاہرین حکومت کی سرخ لائنز کو عبور کریں گے، تو حکومت اسلام آباد میں کرفیو لگانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔
محسن نقوی نے کہا، “اگر ضرورت پیش آئی تو ہم کرفیو نافذ کریں گے یا دیگر سخت اقدامات اٹھائیں گے،” انہوں نے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون و نظم کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پر عزم ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کو 24 گھنٹے قبل سنگجانی میں احتجاج کرنے کی پیشکش کی گئی تھی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس پیشکش کے حوالے سے اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں۔
محسن نقوی کے مطابق سنگجانی میں احتجاج کی اجازت ڈپٹی کمشنر دے سکتے ہیں لیکن اسلام آباد کے ڈی چوک یا کسی اور جگہ احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی رہنما جان بوجھ کر تشدد کو بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ “ہم انسانی جانوں کے نقصان سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ پی ٹی آئی والے جانی نقصان چاہتے ہیں۔ اگر وہ فائرنگ کریں گے، تو جواب بھی فائرنگ ہوگا،” انہوں نے خبردار کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو حکومت کی پیشکشوں کے حوالے سے واضح جواب نہ دینے پر تنقید کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








