بھارتی نوجوان شطرنج کے کھلاڑی گوکیش ڈوماراجو نے جمعرات کو سنگاپور میں چین کے ڈنگ لی رین کو آخری میچ میں شکست دے کر دنیا کے کم عمر ترین ناقابلِ شکست شطرنج چیمپئن کا اعزاز حاصل کرلیا۔
18 سالہ گوکیش نے کامیابی کے بعد جذباتی ہو کر اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا اور آبدیدہ ہوگئے، بعد میں وہ اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے خوشی سے مسکرائے۔
گوکیش نے کامیابی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، “میری حکمتِ عملی یہی تھی کہ ہر میچ میں اپنی پوری کوشش کروں۔” انہوں نے مزید کہا، “بس ایک میچ جیتنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ کی حکمتِ عملی کامیاب ہو جائے۔”
میچ کے اختتام پر مداحوں نے ان کے نام کے نعرے لگائے، جن میں بھارتی شہری اور سنگاپور میں مقیم بھارتی نژاد افراد شامل تھے۔
کیا کرسٹیانو رونالڈو نے واقعی اسلام قبول کرلیا؟ بیٹے کے “انشاءاللہ” کہنے کی ویڈیو وائرل
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گوکیش کو ان کی “نمایاں کامیابی” پر مبارکباد دی۔ نریندر مودی نے کہا، “یہ ان کی بے مثال صلاحیت، محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے۔ ان کی جیت نے شطرنج کی تاریخ میں نہ صرف انمٹ نشان چھوڑا ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے اور اعلیٰ کارکردگی کے حصول کے لیے ترغیب دی ہے۔”
انعامات کی تقسیم
بین الاقوامی شطرنج فیڈریشن کے مطابق، 2.5 ڈالر ملین انعامی رقم کے تحت ہر جیتے ہوئے میچ پر کھلاڑی کو 200000 ڈالر دیے جائیں گے جبکہ باقی رقم برابر تقسیم ہوگی۔ گوکیش کو مجموعی طور پر 1.35 ملین ڈالر جبکہ ڈنگ کو 1.15 ملین ڈالر ملیں گے۔
شاندار کارکردگی
آخری گیم میں گوکیش نے برتری حاصل کی اور اپنی مہارت سے کامیابی حاصل کی۔ ڈنگ جو شکست کے بعد مایوسی کے عالم میں میز پر جھک گئے، نے کہا، “جب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو میں مکمل طور پر حیران رہ گیا۔”
18 سال کی عمر میں گوکیش نے روس کے گیری کاسپروف کا ریکارڈ توڑ دیا جنہوں نے 22 سال کی عمر میں یہ اعزاز جیتا تھا۔ گوکیش پانچ بار کے عالمی چیمپئن وشواناتھن آنند کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے بھارتی کھلاڑی ہیں۔
گوکیش نے رواں سال اپریل میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہونے والے “کینڈیڈیٹس ٹورنامنٹ” میں کامیابی حاصل کر کے ڈنگ کو چیلنج کرنے کا حق حاصل کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








