پنجاب حکومت نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب واقع اٹک میں سونے کے اہم ذخائر کی دریافت کی تصدیق کر دی ہے۔
بدھ کو پاک آبزرور کی رپورٹ کے مطابق دریائے کابل اور دریائے سندھ کے سنگم پر کیے گئے حالیہ سروے میں ان ذخائر کی تصدیق ہوئی۔ یہ عمل مکمل ہونے میں ایک سال لگا۔
جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے بعد پنجاب حکومت نے نیسپاک کی خدمات حاصل کیں تاکہ ذخائر کی مزید تصدیق کی جا سکے۔
تمام اداروں کی تصدیق کے بعد پنجاب حکومت کی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ان نتائج پر بریفنگ دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
موج مستی میں لگے رہتے ہیں اور، بھارتی کرکٹرز پر بیگمات کو ٹورز میں ساتھ رکھنے پر پابندی عائد
اطلاعات ہیں کہ پنجاب حکومت ان سونے کے ذخائر کی نکالنے کے حقوق کے لیے بین الاقوامی نیلامی منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ دریافت سب سے پہلے سابق نگران وزیر ابراہیم حسن مراد نے اجاگر کی تھی جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اٹک میں تقریباً 800 ارب روپے مالیت کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
یہ دریافت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک مہنگائی اور بے روزگاری جیسے معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ سونے کے یہ ذخائر تقریباً 28 ملین تولے کے ہیں، جن کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 287 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے غیر قانونی طور پر سونا نکالنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے تاکہ غیر مجاز کان کنی کو روکا جا سکے۔
بتایا گیا ہے کہ مقامی لوگ سردیوں کے موسم میں پانی کی سطح کم ہونے پر دریائے سندھ سے سونے کے ذرات جمع کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








