یاسمین راشد اور سرفراز چیمہ سمیت 31 افراد پر (ن) لیگ کا دفتر جلانے کے مقدمے میں فرد جرم عائد

تازہ ترین

تازہ ترین

Yasmin Rashid, Sarfaraz Cheema among 31 indicted in PML-N office torching case

لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو نذر آتش کرنے کے مقدمے میں 31 افراد پر فرد جرم عائد کر دی ہے جن میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور صنم جاوید کو ملزمان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت 22 جنوری کو مقرر کی ہے جہاں گواہوں کو پیش کیا جائے گا۔ تمام ملزمان نے الزامات سے انکار کیا ہے۔ اسی واقعے سے متعلق ایک اور مقدمہ (نمبر 367/23) کی فرد جرم 23 جنوری کو عائد کی جائے گی۔یہ مقدمات لاہور کے گلبرگ اور ماڈل ٹاؤن تھانوں میں درج کیے گئے تھے۔ عدالت نے سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کو مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کرنے پر زور دیں۔

کھاریاں کے کھسرے اپنا گرو چھڑوا کر لے گئے تھے لیکن، پی ٹی آئی کے ناکام احتجاج پر میمز وائرل

اعجاز چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے اراکین ملک کے لیے مزید وقت جیل میں گزارنے کو تیار ہیں لیکن مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

انہوں نے جیل حکام کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں شرکت سے روکنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی توہین ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں کیونکہ یہ اقدامات پارٹی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومت پر سینیٹ چیئرمین گیلانی کے پروڈکشن آرڈرز کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو سینیٹ اجلاس میں شرکت سے روکنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یاسمین راشد نے فوجی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کو دی جانے والی سزاؤں پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ پارٹی کے سیکڑوں حمایتی اب بھی قید میں ہیں۔

Related Posts