سی پیک منصوبے کے تحت نیو گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا، جہاں کراچی سے قومی ایئر لائن کی پہلی تجارتی پرواز پی کے 503 نے کامیابی سے لینڈنگ کی۔
وفاقی وزیرِ دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، اور چین کی اہم شخصیات نے گوادر ایئر پورٹ پر مسافروں کا استقبال کیا۔ اس موقع کو علاقے کی ترقی اور پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔
گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پاکستان کا دوسرا گرین فیلڈ ایئر پورٹ ہے، جو بڑے طیاروں جیسے ایئر بس اے 380 اور بوئنگ 747 کی لینڈنگ کے قابل ہے۔ ایئر پورٹ 430 ایکڑ کے رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے اور شہر سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا واحد رن وے 3658 میٹر طویل اور 75 میٹر چوڑا ہے۔
اس ایئر پورٹ کی تعمیر کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا اور اسے 50 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا، جس میں ایک حصہ چینی گرانٹ سے فراہم کیا گیا تھا۔ جدید ترین سہولیات سے آراستہ یہ ایئر پورٹ روزانہ 50 سے زائد ایئر لائنز کو ایندھن اور کارگو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بین الاقوامی تجارت، سیاحت، اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
کراچی سے روانہ ہونے والی پرواز کو نیو گوادر ایئر پورٹ پر پہنچنے پر واٹر سلیوٹ پیش کیا گیا، اور فلائٹ ریڈار پر نئے ایئر پورٹ کو ٹیگ کر کے پرانے گوادر ایئر پورٹ کے ٹیگ کو ہٹا دیا گیا۔ یہ ترقی گوادر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے اقتصادی امکانات کو بڑھانے کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








