روس بشار الاسد کی شام حوالگی پر آمادہ، شرائط کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ایم ایم

سابق آمر بشار الاسد کی حوالگی کے مطالبے پر روس کی جانب سے شامی حکومت کے ساتھ سودا بازی پر آمادگی کا انکشاف ہوا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق نئی شامی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع نے گزشتہ دنوں انقلاب کے بعد پہلی بار دمشق پہنچنے والے روسی وفد سے سابق شامی آمر بشار الاسد کی حوالگی کی درخواست کی تھی۔

روئٹرز نے ماہرین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ روسی وفد کا یہ دورہ ممکنہ طور پر ایک بڑی سودے بازی کی پیشکش کے لیے تھا، جس کا مقصد یہ ہے کہ شام میں روسی فوجی اڈوں کو برقرار رکھا جائے تاکہ بحیرہ احمر کے پانیوں میں روسی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

شامی ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ روس نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ روسی گندم کسی بھی شامی اور روسی مذاکراتی میز سے غائب نہیں ہوگی۔

سودا بازی کے لیے اس ابتدائی بات چیت کے انکشاف کے بعد امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ جلد ہی روسی گندم کی کھیپ میں ایک کالا بیگ بھی ہوگا، جس میں بشار الاسد کو روس سے دمشق کی صیدنایا جیل منتقل کیا جائے گا۔

اس امکان پر شامی امور کے ماہر نزیہ الأحدب کا کہنا ہے کہ روس کے پاس کئی فائلیں ہیں، جن پر وہ نئی شامی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے، جن میں سب سے پہلے صدر بشار الاسد کا معاملہ، پھر گندم اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی جو ماسکو کو ملتی ہے اور اس کے علاوہ سیاسی قرضوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق روس کسی بھی ممکنہ سودے کے بدلے میں ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں شام میں روسی فوجی اڈوں کی حفاظت، بحیرہ روم میں روسی مفادات کی ضمانت، روسی گندم کی برآمدات کے فوائد کا تحفظ اور شام میں روسی اقتصادی مفادات کی حفاظت شامل ہیں۔

Related Posts