ایم کیو ایم میں اختیارات کی جنگ شدید، سخت گیر مؤقف کس نے اختیار کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایم کیو ایم
(فوٹو: آن لائن)

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) میں اختیارات کی جنگ شدید ہوگئی، تنظیمی عہدوں پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران ایم کیو ایم کارکنان نے مظاہرے بھی کیے۔

بعض کارکنان کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے عہدوں کا فیصلہ گورنر ہاؤس سے کیاجارہا ہے۔ رات گئے خواتین کارکنان نے سابق وفاقی وزیر اور پارٹی کے مرکزی رہنما خالد مقبول صدیقی کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ایم کیو ایم قیادت کا کہنا ہے کہ غلط خبروں کے باعث کارکنان غلط فہمی کا شکار ہوئے۔

ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت میں شامل ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی کچھ ذمہ داریوں سے دستبرداری کیلئے تیار تھے، مگر دوسری طرف سے سخت گیر مؤقف اختیار کیا گیا۔ تنظیم میں اختلافِ رائے ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے تنظیمی اجلاس میں گزشتہ روز شور شرابا ہوا۔ بہادر آباد مرکز میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے تنظیمی اجلاس میں کارکنان نے قیادت کے خلاف نعرے لگائے جس میں عہدوں کی تقسیم عمل میں آئی تھی۔

اس موقعے پر مبینہ طور پر اہم رہنماؤں کو نظر انداز کردیا گیا جس پر ایم کیو ایم کارکنان نے شور شرابا اور ہنگامہ کیا۔ کارکنان نے احتجاج کرتے ہوئے عہدوں کی تقسیم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عہدوں کی تقسیم پر اختلافِ رائے کے باعث مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی ایم کیو ایم کا آفیشل گروپ لیفٹ کر گئے۔

Related Posts