اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ “تباہ کن” امریکی ساختہ بموں کی کھیپ راتوں رات اسرائیل پہنچ گئی ہے اور یہ ٹرمپ کی جانب سے حماس اور اہل غزہ کو دی جانے والی سنگین نتائج کی دھمکیوں کے بعد ہوا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں ایم کے-84 جنگی ہتھیاروں کی اجازت دی جن کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت نے ایک بیان میں کہا، “امریکی حکومت کی حالیہ جاری کردہ کئی ٹن وزنی تباہ کن فضائی بموں کی ایک کھیپ اسرائیل میں موصول ہوئی اور راتوں رات اتاری گئی۔”
روبیو اتوار کو اسرائیلی حکام کے ساتھ گفتگو کرنے والے ہیں جس میں وہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے ٹرمپ کی متنازع تجویز کو نمایاں کریں گے جو 15 ماہ سے زائد کی حماس-اسرائیل جنگ میں تباہ ہو چکی ہے۔ ان کی یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی ملاقات طے شدہ ہے۔
نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیل کے اگلے اقدام کے لیے امریکی صدر کی “مکمل حمایت” پر تعریف کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے ہفتہ کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا، “اسرائیل کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا کرنا ہے۔ امریکہ ان کے فیصلے کی حمایت کرے گا!”
روبیو کی اسرائیل آمد سے چند گھنٹے قبل حماس نے غزہ میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا۔
اس ہفتے کے شروع میں جنگ بندی ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی اور نیتن یاہو نے کہا کہ ہفتے کو یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کا سہرا “صدر ٹرمپ کے مضبوط مؤقف” کو جاتا ہے۔
توقع ہے کہ اعلیٰ امریکی سفارتکار اپنی ملاقاتوں میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات کریں گے جس میں بقیہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے مزید مستقل خاتمے پر بات ہو گی لیکن اس پر ابھی تفصیلی اتفاق ہونا باقی ہے۔
مذاکرات کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ ثالثین کو دوسرے مرحلے پر “دوحہ میں اگلے ہفتے” مذاکرات شروع ہو نے کی امید ہے۔
واشنگٹن نے عرب حکومتوں کی جانب سے متبادل تجاویز کے لیے کشادگی کا اظہار کیا لیکن اس بات پر زور دیا ہے کہ فی الحال “واحد منصوبہ ٹرمپ کا ہی ہے۔”
روبیو نے جمعرات کو کہا، “ابھی واحد منصوبہ خواہ وہ اسے پسند نہ کریں لیکن ٹرمپ کا منصوبہ ہی ہے۔ اس لیے اگر ان کے پاس کوئی بہتر منصوبہ ہے تو اسے پیش کرنے کا یہی وقت ہے۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








