لاہور: عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے “اے بیٹر کمیونٹی فار آل کینیڈا” اور “یس پیس پروموٹرز پاکستان” کے زیر اہتمام ایک خصوصی زوم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
اس اجلاس کی میزبانی ممتاز مذہبی و سماجی رہنما ریورنڈ یوئیل بھٹی نے کی، جس میں دنیا بھر سے مختلف مذاہب کے رہنماؤں، اسکالرز اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا موضوع “لو آف نیبر، لو آف گاڈ” رکھا گیا تھا، جو انسانی محبت اور مذہبی رواداری کے فروغ کا پیغام تھا۔
اجلاس کے آغاز میں ریورنڈ یوئیل بھٹی نے اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس عالمی امن اور ہم آہنگی کے فروغ کی ایک اہم کڑی ہے اور ورلڈ انٹرفیتھ ہارمنی ویک 2025 کے موقع پر اس کا انعقاد خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان محبت، برداشت اور رواداری کی فضا قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
پاکستانی اسکالر نسرین نے بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کریں تاکہ مذہبی منافرت اور شدت پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ انٹرفیتھ ہارمنی ویک کا آغاز 2010 میں شاہ عبداللہ نے کیا تھا، جس کا مقصد عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور محبت کے پیغام کو عام کرنا تھا۔
معروف مذہبی اسکالر ایورسٹ جان نے بائبل مقدس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا “ہمسایہ” کون ہے۔ بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنے پڑوسی سے محبت کرنا دراصل خدا سے محبت کے مترادف ہے۔
بھارت سے تعلق رکھنے والی ملی داس نے اپنے خیالات کا اظہار ایک خوبصورت نظم کے ذریعے کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ ان کی نظم نے محبت، اتحاد اور بھائی چارے کی اہمیت کو منفرد انداز میں اجاگر کیا۔
ڈاکٹر جان مکھتا (کانگو) نے اپنے ملک میں جاری جنگی صورتِ حال پر روشنی ڈالی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کانگو میں قیامِ امن کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے اور اس مقصد کے لیے مالی اور اخلاقی تعاون فراہم کرے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی اگستینا جوزف نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ دنیا بھر سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر امن و سلامتی کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔
ننھی مقررہ علینا رندھاوا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تمام شرکاء سے اپیل کی کہ وہ قیامِ امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ ان کی معصومانہ لیکن پراثر گفتگو نے اجلاس کے شرکاء کو بے حد متاثر کیا۔
شاہد اختر نے نوجوانوں کو اس مشن میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو اس کارِ خیر میں شریک کریں تو امن کا خواب جلد حقیقت بن سکتا ہے۔
فادر ولیم بشارت، جو حال ہی میں تحصیل لاہور کینٹ کے انٹرفیتھ ہارمنی چیئرمین مقرر ہوئے ہیں، نے کہا کہ وہ گزشتہ 15 سال سے قیامِ امن کے لیے سرگرم ہیں اور جہاں بھی ضرورت ہوگی، اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ہندو کمیونٹی کے مذہبی رہنما بھگت لال کھوکھر نے کہا کہ جب تک ہمارے دلوں میں نفرت اور آنکھوں سے غصہ ختم نہیں ہوگا، حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے برداشت اور صبر کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فادر جیمز چنن نے کہا کہ بعض ممالک میں مذہب کے نام پر نفرت پھیلائی جا رہی ہے، جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے مذہبی آزادی اور رواداری کے فروغ کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر بدر منیر نے اجلاس کے عنوان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوبصورت اور مؤثر پیغام ہے اور وہ پاکستان میں بھی اسی مقصد کے تحت مختلف پروگرامز کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ریورنڈ یوئیل بھٹی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
یہ اجلاس نہ صرف مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور محبت کے فروغ کا ذریعہ بنا بلکہ اس میں عالمی سطح پر قیامِ امن کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








